خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 257 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 257

257 خطبه جمعه فرموده 5 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ستی اس لئے ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت انسان کو یاد نہیں رہتا۔انسان بھول جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہر لمحہ اور ہر آن مجھ پر نظر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں، ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں۔اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔رساله الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 309) تو یہ کم از کم کوشش ہے جو ہمیں اپنے اللہ پر ایمان لانے اور پھر ترقی کی طرف قدم بڑھانے کے لئے کرنی چاہئے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔اس آیت میں جواللہ تعالیٰ نے اس طرح شروع کیا کہ الله لا إلهَ إِلَّا هُوَ - یعنی صرف اللہ کو دیکھو کہ وہی تمہارا معبود ہے اس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے۔یہ واضح فرما دیا کہ اللہ ہی تمام صفات کا جامع اور تمام قدرتوں کا مالک ہے اور اس ناطے وہی اس بات کا حقدار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور تمام جھوٹے خداؤں سے کنارہ کشی کرتے ہوئے، بچتے ہوئے ،صرف اسی واحد خدا کے سامنے جھکا جائے۔فرمایا کہ اس واحد خدا کے سامنے جھکو گے تو پھر ہی دنیا و آخرت کے انعامات سے فیض پاسکتے ہو۔دنیا میں ہر چیز کا بدل مل سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کا کوئی بدل نہیں ہے۔جب اس کا بدل نہیں ہے تو پھر بیوقوفی ہے کہ اسے چھوڑ کر کہیں اور جایا جائے۔یا عارضی طور پر ہی اپنی ترجیحات کو بدل دیا جائے۔ایک دہر یہ تو یہ کہ سکتا ہے کہ میں کیونکہ خدا کو نہیں مانتا اس لئے میں کیوں اس کے در پر حاضر ہو جاؤں۔لیکن ایک مسلمان جب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لَا إِلهَ إِلَّا الله اور پھر دنیاوی ذریعوں کو خدا سے زیادہ اہمیت دیتا ہے تو یہ یقینا اس کی بدقسمتی ہے۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وہ خدا جو لا شریک ہے جس کے سوا کوئی بھی پرستش اور فرمانبرداری کے لائق نہیں۔یہ اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لاشریک نہ ہو تو شاید اس کی طاقت پر دشمن کی طاقت غالب آ جائے۔اس صورت میں خدائی معرض خطرہ میں رہے گی“۔(اللہ تعالیٰ کا مقام اور اس کی قدرتیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔اور یہ جو فر مایا کہ اس کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ ایسا کامل خدا ہے جس کی صفات اور خوبیاں اور کمالات ایسے اعلیٰ اور بلند ہیں کہ اگر موجودات میں سے بوجہ صفات کاملہ کے ایک خدا انتخاب کرنا چاہیں یا دل میں عمدہ سے عمدہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ خدا کی صفات فرض کریں تو وہ سب سے اعلیٰ جس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ نہیں ہوسکتا، وہی خدا ہے جس کی پرستش میں ادنی کو شریک کرنا ظلم ہے“۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحه (372) پس ایک مومن کے دل میں خوف خدا پیدا ہوتا ہے جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فقرے کو سامنے رکھتے ہوئے کہ وہی خدا ہے جس کی پرستش میں ادنی کو شریک کرنا ظلم ہے ، اپنے نفس کا جائزہ لیتا