خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 258 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 258

258 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 5 جون 2009 ہے۔کئی باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں، ہمارے سے روزانہ ہو جاتی ہیں جس میں ہم لاشعوری طور پر بہت سی چیزوں کو خدا تعالیٰ کا شریک بنا کر اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں۔بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے اور اس کی ربوبیت زمین و آسمان پر پھیلی ہوئی ہے۔اللہ ہماری ایسی حالتوں کو اپنی مغفرت اور رحم کی صفات سے ڈھانپ ل - لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّلِمِينَ (الأنبياء: 88) کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، میں یقیناً ظالموں میں سے ہوں۔پس اللهُ لَا إِلهَ إِلَّا هُو کی طرف جانے کے لئے یا صحیح راہنمائی حاصل کرنے کے لئے لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِینَ کی دعا بھی بڑی اہم دعا ہے جو پڑھتے رہنا چاہئے۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمانے کے بعد کہ اللہ ہی تمہارا معبود ہے اور حقیقی معبود ہے۔فرمایا الحَيُّ الْقَيُّوم یعنی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اپنی ذات میں قائم ہے۔اور ان حتی ہونے کی وجہ سے صرف خود ہی ہمیشہ زندہ نہیں رہتا بلکہ تمام جانداروں کو زندگی بخشنے والا ہے۔اور القیوم ہے، صرف خود ہی قائم نہیں ہے بلکہ کائنات کی ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں : اس آیت کے لفظی معنی یہ ہیں کہ زندہ خدا وہی خدا ہے اور قائم بالذات وہی خدا ہے۔پس جبکہ وہی ایک زندہ ہے اور وہی ایک قائم بالذات ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص جو اس کے سوازندہ نظر آتا ہے وہ اُسی کی زندگی سے زندہ ہے اور ہر ایک جوز مین یا آسمان میں قائم ہے وہ اسی کی ذات سے قائم ہے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 120) پس اپنے زندہ اور قائم ہونے اور زندہ اور قائم رکھنے کا حوالہ دے کر مومنوں کو یہ تسلی دلا دی کہ تم دنیاوی دباؤ اور دنیاوی لالچوں کے زیر اثر کبھی نہ آنا اور جو وعدے میں نے مومنوں سے کئے ہیں ان پر پوری طرح یقین رکھنا تمہاری نسلوں کی زندگی اور بقا بھی میرے ساتھ جڑے رہنے سے وابستہ ہے اور جماعتی زندگی اور بقا بھی میرے ساتھ جڑے رہنے سے وابستہ ہے۔حالات کی وجہ سے دنیاوی ذرائع پر انحصار کرنے کا نہ سوچنے لگ جانا۔میری عبادت کرتے رہو۔میری طرف جھکے رہو تو اسی میں تمہاری زندگی ہے اور اسی میں تمہاری بقا ہے۔ایک دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ (الفرقان : 59) اور تو اس پر تو کل رکھ جو زندہ ہے اور سب کو زندہ رکھتا ہے کبھی نہیں مرتا اور اس کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کر۔پس ایک مومن حالات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی صفت کے بارہ میں شک میں نہیں پڑتا بلکہ مشکلات اسے تی و قیوم اور قادر اور مجیب خدا کے سامنے اور زیادہ جھکنے والا بناتی ہیں۔پھر خدا تعالیٰ نے لَا تَأخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْم کہہ کر یہ بھی واضح فرما دیا کہ کبھی کسی مومن کے دل میں یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ اللہ تعالی نبیند یا اونگھ کی حالت میں زندہ رکھنے اور قائم رکھنے سے غافل ہوسکتا ہے۔یا د رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی صفات نہ محدود ہیں ، نہ ہی اسے کسی قسم کی کمزوری ان صفات سے عدم تو جنگی کی طرف لے جاتی ہے۔اس کو کسی آرام