خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 256
256 خطبه جمعه فرموده 5 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم دوسری بات یہ فرمائی کہ: ” علت مادی کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ فقرہ کہ ذلِكَ الْكِتبُ یعنی یہ وہ کتاب ہے جس نے خدا کے علم سے خلعت وجود پہنا ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کا علم تمام علوم سے کامل تر ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ میرے علم کی وسعتوں کی انتہا نہیں ہے۔انسان اس کا احاطہ کر ہی نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اور وسیع علم سے کچھ حصہ اپنے پیارے نبی ﷺ کے ذریعہ اس کتاب میں ہمیں بتایا۔اور پھر تیسری چیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ، فرمایا: ” اور علت صوری کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ فقرہ لا ريب فيه - یعنی یہ کتاب ہر ایک غلطی اور شک و شبہ سے پاک ہے۔اور اس میں کیا شک ہے کہ جو کتاب خدا تعالیٰ کے علم سے نکلی ہے وہ اپنی صحت اور ہر ایک عیب سے مبرا ہونے میں بے مثل و مانند ہے اور لا ریب ہونے میں اکمل اور اتم ہے“۔پھر آپ نے فرمایا اور علت غائی یعنی اس کی جو بنیادی وجہ ہے " علت غائی کے کمال کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ فقره که هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔یعنی یہ کتاب ہدایت کامل متقین کے لئے ہے اور جہاں تک انسانی سرشت کے لئے زیادہ سے زیادہ ہدایت ہو سکے وہ اس کتاب کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 136-137 - حاشیہ) ہدایت اور عرفان الہی کے بھی مدارج ہیں۔پس قرآن کریم کی تعلیم پر غور اور عمل ، ہدایت اور عرفان الہی کی نئی سے نئی راہیں کھولتا ہے۔یہ چار باتیں قرآن پڑھتے وقت اگر ہمارے سامنے ہوں اور ان پر ایمان اور یقین ہو تو قرآن کریم کو سمجھنے اور اس کا صحیح ادراک حاصل کرنے کی طرف راہنمائی ملتی ہے۔اب میں آیت الکرسی کی کچھ وضاحت کروں گا۔اس آیت میں بھی خدا تعالیٰ کے جامع الصفات اور وسیع تر ہونے کا مضمون ہے۔اس آیت کی ابتدا ہی اللہ تعالیٰ کے نام سے ہوتی ہے۔اللہ کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: اللہ جو خدائے تعالیٰ کا ذاتی اسم ہے اور جو تمام جمیع صفات کا مجمع ہے“۔فرمایا ” کہتے ہیں کہ اسم اعظم یہی ہے اور اس میں بڑی بڑی برکات ہیں۔لیکن جس کو وہ اللہ یا د ہی نہ ہو وہ اس سے کیا فائدہ اٹھائے گا۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 63 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس جب ایک انسان مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کو سب طاقتوں کا سر چشمہ یقین کرنا چاہئے اور اسے تمام صفات کا اس حد تک احاطہ کئے ہوئے سمجھنے پر ایمان ہونا چاہئے ، جہاں تک انسان کے فہم و ادراک کی رسائی نہیں ہو سکتی۔جو بے کنار ہے اور جب یہ ایمان ہوگا تو سبھی ہر موقع پر خدا تعالیٰ یا در ہے گا۔بہت سی برائیوں میں انسان اس لئے مبتلا ہو جاتا ہے یا اللہ تعالیٰ کے احکامات کے بجالانے میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں