خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 242
242 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرموده 29 مئی 2009 قدرت سے بالا ہو۔پس یہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرے اور جب یہ کوشش ہو گی تبھی ایک مومن اللہ تعالیٰ کے اُن انعامات کو پانے والا ٹھہر سکتا ہے جس کا خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔پس یہ اسلام کی خوبی ہے کہ وہ احکامات جو انسان کی طاقت کے اور استعدادوں کے مطابق ہیں دے کر ہر ایک کو اپنے اعمال کے مطابق جزا سزا کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔اور خلاف عقل یہ نظریہ پیش نہیں کرتا کہ ایک معصوم نبی کو عنتی موت مار کر قیامت تک آنے والوں کے لئے جو لوگ غلطیاں کرتے رہیں، گناہ کرتے رہیں، خدا تعالیٰ کی عبادت سے غافل رہیں ، تب بھی کوئی فکر کی بات نہیں ہے کیونکہ ایک معصوم نبی اور اللہ تعالیٰ کا فرستادہ اُن کے ان گناہوں کے لئے لعنتی موت قبول کر چکا ہے۔لیکن قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کا کیا فطرت کے مطابق اور حکیمانہ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام ہر ایک کی کمزوریوں اور صلاحیتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے مطابق ہیں اور پھر یہ کہ انسان کا نیک اعمال بجالانا اور ان کو بجالانے کے لئے کوشش کرنا اسے تمام گناہوں سے کلیۂ پاک نہیں کر دیتا کیونکہ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ انسان کی رگوں میں شیطان خون کی طرح دوڑ رہا ہے۔( بخاری کتاب الاعتکاف باب زيارة المرأة زوجهافی اعتکافه حدیث :8 203) اس لئے کئی ایسے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں کہ انسان بعض غلطیاں اور گناہ غیر ارادی طور پر کر لے تو اُس کا کام ہے کہ استغفار کرتے ہوئے ان سے بچنے کی کوشش کرے اور نیکیوں کی طرف بڑھنے کی کوشش کرے۔اُن اعمال کو بجا لانے کی کوشش کرے جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے ایک جد و جہد کرے تو خدا تعالیٰ جو وسیع تر رحمت والا ہے اور وسیع تر بخشش والا ہے اپنے بندے کی طرف بخشش اور رحم کی نظر سے متوجہ ہوتا ہے۔پس یہ خوبصورت تعلیم ہے جو قرآن کریم نے ہمیں دی ہے۔جس کے لئے کسی کفارہ کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے اس کا کیا مطلب ہے لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کا اور یہ کس طرح اور کن کن باتوں پر حاوی ہوتا ہے۔وہ کون کون سی حالتیں ہیں جہاں انسان اپنے اعمال کا مکلف نہیں اور کہاں وہ قابل مواخذہ ہوگا۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی وسعت علمی سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔گو یہاں یہ تو پتہ چلتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کی وسعت علمی سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتا لیکن ساتھ ہی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ( ط :115) اب یہ دعا جو آنحضرت ﷺ کو سکھائی گئی جن کو ایسا علم دیا گیا تھا جو قیامت تک کے علوم پر حاوی ہے اور جو قرآن کریم نازل ہور ہا تھا خدا تعالیٰ کے علم میں تھا کہ کیا کیا علم و عرفان کے خزانے آپ پر نازل ہونے ہیں۔اُس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا قرآن کریم کے نازل ہونے کے بارہ میں جلدی سے کام نہ کرو، کام نہ لو بلکہ یہ دعا کئے جا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ علم میں ترقی دیتا ہے تا کہ علم و عرفان کا جو سمندر اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینے میں پیدا فرمایا تھا ، جو موجزن تھا اس میں وسعت پیدا ہوتی چلی جائے۔اور جب قرآن کریم نازل ہو گیا تب بھی آپ ﷺ کی یہ دعا تھی کہ آپ کے ماننے