خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 241
خطبات مسرور جلد ہفتم 241 (22) خطبہ جمعہ فرموده 29 مئی 2009 فرمودہ مورخہ 29 رمئی 2009ء بمطابق 29 ہجرت 1388 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَانَا۔رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ۔وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (البقره: 287) جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ ہے کہ اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔اُس کے لئے ہے جو اُس نے کمایا اور اس کا وبال بھی اُسی پر ہے جو اُس نے بدی کا اکتساب کیا۔اے ہمارے رب ! ہمارا مؤاخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے کوئی خطا ہو جائے اور اے ہمارے رب ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا ہم سے پہلے لوگوں پر ان کے گناہوں کے نتیجہ میں ان پر ڈالا اور اے ہمارے رب ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جو ہماری طاقت سے بڑھ کر ہو اور ہم سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر۔تو ہی ہمارا والی ہے۔پس ہمیں کا فرقوم کے مقابلے پر نصرت عطا فرما۔اس آیت کے شروع میں ہی خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا که الله تعالى کسی جان پر اس کی صلاحیتوں اور اس کی استعدادوں سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔پس وسعت کا لفظ جب انسان کے لئے بولا جاتا ہے تو اس کی محدود صلاحیتوں اور استعدادوں کو سامنے رکھتے ہوئے بولا جاتا ہے۔جیسا کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا سے ظاہر ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کے لئے جیسا کہ میں گزشتہ خطبوں میں بتا چکا ہوں واسع کا لفظ استعمال ہوتا ہے یہ خدا کی صفت اور نام ہے۔جس کا مطلب ہے کہ صلاحیتوں کی اور استعدادوں کی کوئی قید نہیں ہو سکتی۔بلکہ اللہ تعالیٰ جہاں جامع الصفات ہے اور تمام طاقتوں اور قدرتوں کا مالک ہے وہاں اس کی طاقتوں اور قدرتوں اور علم کی اتنی وسعت ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔اس لئے اُن کے احاطہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔تو بہر حال اس آیت کے حوالے سے میں چند باتیں کہوں گا۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کی روشنی میں ہیں کہ انسان کو مختلف حالات میں اس کی وسعت کے لحاظ سے، اس کی طاقتوں اور استعدادوں کے لحاظ سے مکلف بنایا گیا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کوئی ایسا حکم نہیں دیتا جس کو انسان بجالا نہ سکے یا اُس کی طاقت اور