خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 243 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 243

243 خطبہ جمعہ فرموده 29 مئی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم والوں کو اس دعا کی کس قد رضرورت ہے اور اپنے علم کو وسعت دینے کی کس قدر ضرورت ہے۔اس کے لئے آپ نے اپنی امت کو نصیحت بھی کی ہے کہ علم حاصل کرو خواہ اس کے لئے تمہیں چین تک جانا پڑے۔“ ( کنز العمال كتاب العلم من قسم الاقوال باب اول فی الترغیب فیہ جلد 5 جزء خامس صفحہ 60 حدیث نمبر 28693 ایڈیشن 2004 ء بیروت) یعنی علم کے حصول کے لئے محنت کرو۔اور اپنے علم میں اضافہ کی طرف تا زندگی توجہ دیتے رہو۔بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ کسی نفس کو تکلیف میں نہیں ڈالتا وہ یعنی کسی شخص کو اُس وقت اس کا مکلف نہیں کرتا اس کی جواب دہی نہیں کرتا جب تک کسی معاملہ میں اس کی وسعت اور صلاحیت اور استعداد نہ پیدا ہو جائے اس کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ حقیقی مومن کو علم کے حصول کی بھی کوشش کرنی چاہئے اور یہ صلاحیتیں پیدا کرنی چاہئیں اور حتی الوسع اپنے علم کو بڑھانے کے لئے دعا بھی کرنی چاہئے۔پس ایک تو وہ علم ہے جو کہ انبیاء کو خدا تعالیٰ دیتا ہے اور سب سے بڑھ کر آنحضرت اللہ کوعطا فرمایا لیکن ساتھ ہی یہ دعا بھی سکھائی کہ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔اور دوسرے وہ علم ہے جو روحانی اور دنیاوی دونوں طرح پر ہے۔جس کے لئے محنت کرنی چاہیئے اور ساتھ ہی دعا بھی کرنی چاہیئے ایک مومن کو بھی۔اگر علم کے حصول کے لئے محنت کی ضرورت نہیں تھی تو پھر آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا بے معنی ہے کہ حاصل کرو خواہ صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔اور اس کے لئے سفر کرنے پڑیں۔لیکن علم کے حصول کے لئے بھی صلاحیتیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتیں۔اس لئے دعا بھی سکھائی کہ صرف اپنے پر بھروسہ نہ کرو بلکہ علم کے حصول کے لئے دعاؤں سے بھی خدا تعالیٰ کی مدد حاصل کرو اور پھر جب یہ کوشش ہوگی ، ہر ایک اپنی اپنی استعدادوں اور وسائل کے لحاظ سے علم حاصل کرے گا تمہاری صلاحیتوں کو خدا تعالیٰ نے ہر ایک کی مختلف رکھی ہیں۔بچپن کی تربیت، اٹھان اور معاشرے کا بھی انسان پر اثر ہوتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے بھی درجے مقرر فرمائے ہیں کہ ہر ایک اپنی اپنی استعداد کے لحاظ سے علم حاصل کرے اور اس کے لئے کوشش کرے تو تب ہی تمہارے اندر وسعت پیدا ہوگی۔اللہ تعالیٰ نے اس کے درجے مقرر فرما دیئے ہیں۔یہ نہیں کہ کم ذہنی صلاحیتوں جو علم کی کمی کی وجہ سے یا قدرتی طور پر کسی میں ہیں یا ماحول کے اثر کی وجہ سے علم میں کمی ہے اُسے بھی اسی طرح مکلف کرے جتنا اعلیٰ ذہنی اور علمی صلاحیتوں والے کو اور جسے دینی اور دنیاوی علم حاصل کر کے حاصل کرنے کے تمام تر مواقع میسر آئے ہوں۔یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی وسعت علمی کی وجہ سے تمام حالات کو جانتا ہے۔اس لئے جب وہ مکلف کرتا ہے کسی کو تو وہ ان سب باتوں کو مدنظر رکھ کر کرتا ہے جوکسی بھی انسان کے بارہ میں اس کے علم میں ہیں۔اگر انسان اپنی صلاحیتوں کو جو خداداد ہیں اُس علم کے حصول کے لئے استعمال میں نہیں لاتا جس کے حاصل کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا تھا تو ایسا شخص پھر جوابدہ ہے یہاں لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا کا مطلب یہی ہے کہ اپنے نفس کو تم نے اس طرح استعمال نہیں کیا جو اس کا حق بنتا تھا اور ایک مسلمان کہلانے والے کے لئے سب سے بڑھ کر دینی علم میں ترقی ہے جو اس کو کوشش کرنی چاہئے۔