خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 240
240 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرموده 22 مئی 2009 لگتے ہیں اور ایسا ہی روزہ اور حج سے بجائے تزکیہ کے ان میں تکبر اور نمود پیدا ہوتی ہے“۔فرمایا 'یا درکھو تکبر شیطان سے آیا ہے اور شیطان بنا دیتا ہے جب تک انسان اس سے دُور نہ ہو۔یہ قبول حق اور فیضان الوہیت کی راہ میں روک ہو جاتا ہے کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہئے۔نہ علم کے لحاظ سے نہ دولت کے لحاظ سے نہ وجاہت کے لحاظ سے نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے کیونکہ زیادہ تر انہی باتوں سے یہ تکبر پیدا ہوتا ہے اور جب تک انسان ان گھمنڈوں سے اپنے آپ کو پاک صاف نہ کرے گا اُس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ نہیں ہوسکتا اور وہ معرفت جو جذبات کے مواد ر ڈ یہ کو جلا دیتی ہے اس کو عطا نہیں ہوتی کیونکہ یہ شیطان کا حصہ ہے اس کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔شیطان نے بھی تکبر کیا تھا اور آدم سے اپنے آپ کو بہتر سمجھا اور کہ دیا اَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ (الاعراف: 13) اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ خدا تعالیٰ کے حضور سے مردود ہو گیا اور آدم لغزش پر چونکہ اسے معرفت دی گئی تھی ) اپنی کمزوری کا اعتراف کرنے لگا اور خدا تعالیٰ کے فضل کا وارث ہوا۔وہ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔اس لئے دعا کی رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف:24)‘‘۔ناروخ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 211-212 جدید ایڈیشن) پس حقیقی تزکیہ نفس کے حصول کا یہ نکتہ ہے اور اس سے حقیقی مومن اور شیطان کے پیچھے چلنے والوں میں فرق ظاہر ہوتا ہے کہ شیطان نے تکبر کرتے ہوئے ان خیر کا نعرہ لگایا ، اپنی بڑائی کی بات کی لیکن آدم نے اس معرفت کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمائی تھی اس نکتہ کو سمجھا اور نہایت عاجزی سے یہ دعا کی کہ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرُلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف : 24) اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اگر تو ہمیں نہ بخشے گا اور رحم نہ فرمائے گا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔پس یہ دعا ہے جو آج بھی اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت کو جذب کرنے والی ہے۔برائیوں سے بچانے والی اور غلطیوں اور کوتاہیوں سے پردہ پوشی کرنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ہمیشہ اپنے نفسوں کا محاسبہ کرتے رہیں۔ہر نیک عمل کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے والے ہوں۔تمام قسم کی برائیوں سے اپنے آپ کو پاک کرنے والے ہوں اور اس کے لئے مسلسل کوشش کرتے رہنے والے ہوں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی وسیع تر بخشش کے طالب رہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی تو فیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 16 شماره 24، مورخہ 12 جون تا 18 جون 2009 صفحہ 5 تا صفحه 8