خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 239
239 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 22 مئی 2009 خواص سمجھے جاتے ہیں وہ بھی اکثر مبتلا ہو جاتے ہیں۔ان سے خلاصی پانا اور مرنا ایک ہی بات ہے ( یعنی ان برائیوں سے ) اور جب تک ان بدیوں سے نجات حاصل نہ کرے تزکیہ نفس کامل طور پر نہیں ہوتا اور انسان ان کمالات اور انعامات کا وارث نہیں بنتا جو تز کیہ نفس کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔بعض لوگ اپنی جگہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان اخلاقی بدیوں سے ہم نے خلاصی پالی ہے۔لیکن جب بھی موقعہ آپڑتا ہے اور کسی سفیہ سے مقابلہ ہو جاوے تو انہیں بڑا جوش آتا ہے اور پھر وہ گند اُن سے ظاہر ہوتا ہے جس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔اُس وقت پتہ لگتا ہے کہ ابھی کچھ بھی حاصل نہیں کیا اور وہ تزکیہ نفس جو کامل کرتا ہے میسر نہیں۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تزکیہ جس کو اخلاقی تزکیہ کہتے ہیں بہت ہی مشکل ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔اس فضل کے جذب کرنے کے لئے بھی وہی تین پہلو ہیں۔اول مجاہدہ اور تدبیر۔دوم دعا ، سوم صحبت صادقین“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 210-211 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو اس زمانہ کے امام ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہماری اصلاح کے لئے صحیح راستے پر چلانے کے لئے بھیجا۔اس زمانہ میں آپ کی کتب ہیں جو اصلاح کے لئے ایک بہت وسیع لٹریچر ہے اور یہ پاک ہونے کا ذریعہ ہے۔اس کو پڑھنا چاہئے کیونکہ یہ قرآن کریم کی تشریح ہے ، وضاحتیں ہیں۔اب چند دن ہوئے مجھے جرمنی سے ایک خاتون نے لکھا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں وہ ان کی تلاش میں تھیں اور انہوں نے بڑی محنت سے جمع کئے ہیں۔لیکن جو بات انہوں نے لکھی ہے وہ یہ ہے کہ ان احکامات کو تلاش کرنے کے بعد جب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں قرآن کریم کی تفسیر پڑھ رہی ہوں اور جب کتب پڑھنے کے بعد قرآن کریم پڑھتی ہوں تو تب مجھے پتہ لگتا ہے کہ اصل احکامات کی اہمیت کیا ہے اور ان کی گہرائی کیا ہے۔کیونکہ اس کے بغیر یہ مجھ نہیں آتے۔تو صحبت صادقین کے تعلق میں اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب جو ہمیں مہیا ہیں یہ بہت بڑی نعمت ہے، اس کو بھی جماعت کو بہت پڑھنا چاہئے۔پھر آپ نے فرمایا کہ: در حقیقت یہ گند جو نفس کے جذبات کا ہے اور بداخلاقی، کبر، ریا وغیر ہ صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے اس پر موت نہیں آتی جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو اور یہ مواد رویہ جل نہیں سکتے جب تک معرفت کی آگ ان کو نہ جلائے۔جس میں یہ معرفت کی آگ پیدا ہو جاتی ہے وہ ان اخلاقی کمزوریوں سے پاک ہونے لگتا ہے اور بڑا ہو کر بھی اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے اور اپنی ہستی کو کچھ حقیقت نہیں پاتا۔وہ اس نور اور روشنی کو جو انوار معرفت سے اسے ملتی ہے اپنی کسی قابلیت اور خوبی کا نتیجہ نہیں مانتا اور نہ اسے اپنے نفس کی طرف منسوب کرتا ہے بلکہ وہ اسے خدا تعالیٰ ہی کا فضل اور رحم یقین کرتا ہے۔(آگے تفصیل میں فرمایا کہ سب سے زیادہ انبیاء میں یہ بات ہوتی ہے اور اس کے بعد ہر ایک کی اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق فرمایا کہ ایسے لوگ ہیں جو دودن نماز پڑھ کر تکبر کرنے )۔