خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 230 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 230

خطبات مسرور جلد هفتم 230 خطبہ جمعہ فرموده 15 مئی 2009 تیموں کی بہتری کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ فرمایا ہے۔اس سے پہلے فرمایا کہ کوشش تو یہ ہو تمہاری اس آیت سے پہلی ایک دو آیتوں میں کہ تیموں کا مال محفوظ رہے اور ان کی تعلیم اور تربیت اپنے طور پر کر ولیکن اگر کوئی صاحب حیثیت نہیں اور خرچ برداشت نہیں کر سکتا تو وہ احتیاط سے ان کے مال میں سے ان پر خرچ کرے نہ کہ ان کے بڑے ہونے تک تمام مال ہی لٹا دے۔(النساء : 7) پس صحیح ایماندار وہی ہے جو قیموں کے بڑے ہونے تک ان کی دولت اور جائیداد کے امین ہونے کا صحیح حق ادا کرتا ہے اور صحیح حق اس وقت ادا ہوتا ہے کہ جس طرح اپنے سرمائے کا درد ہو کسی کو اور سوچ سمجھ کر اسے وہ کاروبار میں لگاتا ہے۔تجارت پر لگاتا ہے، منافع پر لگاتا ہے۔یا منافع بخش کاروبار پر لگاتا ہے۔صرف منافع پر تو کوئی کاروبار نہیں ہوتا۔کیونکہ صرف منافع پر ہی لگایا جائے تو وہ سود کی صورت بن جاتی ہے۔تو بہر حال جس طرح اپنے مال کا درد ہے اس طرح یتیموں کے مال کا بھی درد ہونا چاہئے۔حکم ہے کہ تیموں کے مال کو بھی اسی طرح انویسٹ (Invest) کرو تا کہ اس کا روبار میں برکت پڑنے کی وجہ سے ان کو منافع حاصل ہو جب یا ان کی جائیداد بڑھے۔اس کا روبار میں برکت کی وجہ سے اور جب وہ بڑے ہوں تو ان کو اپنے کاروبار کی وسعت نظر آتی ہو۔تو اس سے وہ باوجود یتیم ہونے کے معاشرے کا ایک باوقار اور باعزت حصہ بن جائیں گے۔لیکن بعض دفعہ بعض شکایات آتی ہیں جن میں رشتہ داروں، یتیموں کے مالوں کی حفاظت میں دیانتداری سے کام نہیں لیا گیا ہوتا۔کسی رشتہ دار کے پاس اس کے یتیم بھتیجے بھانجے ہیں تو ان کے مال سے ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔تو ایسے لوگوں کو یا درکھنا چاہئے کہ ایسا مال کھانے سے ان کے مال میں ان کی جائیدادوں میں کبھی وسعت پیدا نہیں ہوسکتی اور اگر وہ اس دنیا میں کوئی مالی منفعت حاصل کر بھی لیں تو وہ اس طریقے سے پھر اللہ تعالیٰ کے اس انذار کے نیچے آنے والے ہوں گے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تیموں کا مال کھانے والے جو ہیں ان کے بارہ میں فرمایا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا - ( النساء: 11) کہ وہ صرف اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور جوان ظلم کرنے والوں کے مددگار بنتے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے باہر نہیں نکل رہے ہوتے۔جس کا آگے ذکر آیا ہے اس آیت میں کہ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى (الانعام : 153) که عدل سے کام لو خواہ کوئی قریبی ہو۔پس یہ بہت خوف کا مقام ہے کہ یتیموں کے مال کی حفاظت بھی کی جائے اور غلط طریقے سے اگر کوئی اس کو استعمال کر رہا ہے تو ان کے کبھی مددگار نہ بنا جائے۔پھر قیموں کے مالوں کی حفاظت اور ان کے بالغ ہونے پر ان کے سپردان کا مال کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کر ولیعنی کاروبار میں دھوکہ نہ کرو۔کیونکہ قوموں پر آنے والی تباہیوں میں یہ کاروباری دھو کے جو ہیں ایک وجہ بن جاتے ہیں۔تو صحابہ کا طریق جو تھا کہ بعض دفعہ ایسے موقعے پیدا ہوتے تھے اگر بظاہر گاہک کو نقص نہ بھی نظر آ رہا ہو مال میں تب بھی اپنے مال کے بارہ