خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 229
229 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرموده 15 مئی 2009 اس طرح سے قرآن کریم نے عورتوں کے مردوں پر اور ان کے خاندانوں پر حقوق قائم فرمائے ہیں اور یہ بتایا ہے کہ مردوں کے کیا فرائض ہیں۔ان کے رشتوں کے بارہ میں یا بچوں کی رضاعت کے بارہ میں بڑے واضح احکامات بیان فرمائے ہیں۔اسی طرح عورتوں کی بھی ذمہ داریاں ہیں جو بڑے واضح طور پر بیان فرمائی گئی ہیں۔جو اولا د اور خاوندوں کے بارہ میں ہیں ان کو ادا کرنا عورتوں پر فرض ہے۔اور یہ تمام حقوق اور ذمہ داریاں جو مرد اور عورت کے ایک دوسرے پر ہیں ان کا ذکر کرتے ہوئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ تمام ذمہ داریاں ہم نے تمہاری طاقتوں اور استعدادوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے مطابق تم پر ڈالی ہیں اس لئے انہیں ادا کرو۔ان کی ایک تفصیل ہے جو میں اس وقت بیان نہیں کروں گا۔اس وقت دو باتیں جو میں نے بیان کی ہیں وہ کافی ہیں۔اس تعلق میں بیان کرنا چاہتا تھا کہ ایک تو یہ کہ بیویوں کے حقوق کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا اسوہ حسنہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خاطر ان حقوق کی ادائیگی کے اعلیٰ ترین معیار کس طرح آپ نے قائم فرمائے اور دوسری کہ اس اُسوہ پر چلنے کی کوشش کرتے ہوئے ہر احمدی مسلمان کو ان حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دینا کس قدر ضروری ہے۔خاص طور پر وہ فرائض جو اللہ تعالیٰ نے مردوں کے ذمہ ڈالے ہیں۔اب میں ایک اور امر کی طرف بھی توجہ دلانی چاہتا ہوں جو جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے عام تو نہیں ہے لیکن اس کی آواز بھی کہیں کہیں احمدی معاشرے میں سنی جانے لگی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورۃ الانعام میں فرماتا ہے کہ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا وَإِذَ اقْلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَبِعَهْدِ اللَّهِ اَوْفُوا ذَلِكُمْ وَضَكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۔(الانعام : 153 ) اور سوائے ایسے طریق کے جو بہت اچھا ہو یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ۔یہاں تک کہ وہ اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے اور ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پورے کیا کرو۔ہم کسی جان پر اس کی وسعت سے بڑھ کہ ذمہ داری نہیں ڈالتے اور جب بھی تم کوئی بات کرو تو عدل سے کام لو۔خواہ کوئی قریبی ہی کیوں نہ ہو اور اللہ کے ساتھ کئے گئے عہد کو پورا کرو۔یہ وہ امر ہے جس کی وہ تمہیں سخت تاکید کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تقریباً پانچ باتیں ہیں جو کرنے کے لئے ہمیں کہا ہے۔پہلی بات تو اس کے علاوہ یہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان ہے کہ ہم کسی پر کوئی ذمہ داری اس کی وسعت سے بڑھ کر نہیں ڈالتے اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وسیع تر علم کی وجہ سے جانتا ہے کہ بندے کی استعداد میں کیا ہیں اور کس حد تک یہ استعداد میں ہیں۔پس جو احکامات بھی خدا تعالیٰ نے دیئے ہیں وہ ہماری طاقت کے اندر ہیں جنہیں ہم بجالا سکتے ہیں۔اس آیت میں جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے سب سے پہلے تو یہ حکم ہے کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ سوائے احسن طریق کے۔اور یتیموں کا مال جن کے پاس آتا ہے۔وہ اس کے امین ہیں۔اس لئے انہیں ان