خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 228 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 228

خطبات مسرور جلد هفتم 228 خطبہ جمعہ فرموده 15 مئی 2009 رخصتی نہیں ہوئی ہوتی یا حق مہر مقرر نہیں ہوا ہوتا تب بھی عورت کے حقوق ادا کرو۔سورۃ بقرہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوا | لَهُنَّ فَرِيضَةً ومَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِع قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ۔مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ۔(البقرة: 237) تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورت کو طلاق دے دو جبکہ تم نے ابھی انہیں چھوا نہ ہو یا ابھی تم نے ان کے لئے حق مہر مقرر نہ کیا ہو اور انہیں کچھ فائدہ بھی پہنچاؤ۔صاحب حیثیت پر اس کی حیثیت کے مطابق فرض ہے اور غریب پر اس کی حیثیت کے مناسب حال یہ معروف کے مطابق اس متاع کو احسان کرنے والوں پر تو یہ فرض ہے۔اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب مرد کی طرف سے رشتہ نہ نبھانے کا سوال اٹھے، اس کی جو بھی وجوہات ہوں ، مرد کا فرض بنتا ہے کہ ان رشتوں کو ختم کرتے وقت عورت سے احسان کا سلوک کرے اور اپنی حیثیت کے مطابق اس کو ادائیگی کرے۔اگر اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہے تو مرد کو حکم ہے کہ اس وسعت کا اظہار کرو۔جس خدا نے وسعت دی ہے اگر اس کا اظہار نہیں کرو گے تو وہ اسے روکنے کی طاقت بھی رکھتا ہے کشائش دی ہے اگر حق ادا نہیں کرو گے، احسان نہیں کرو گے تو وہ کشائش کو تنگی میں بدلنے پر بھی قادر ہے۔اس لئے اگر اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے حصہ لینا ہے تو اپنے پر اُس وسعت کا اظہار عورت سے احسان کا سلوک کرتے ہوئے کرو اور کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی نفس پر اس کی طاقت اور وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اس لئے فرمایا کہ اگر غریب زیادہ دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ اپنی طاقت کے مطابق جو حق بھی ادا کر سکتا ہے کرے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم نیکی کرنے والے اور تقویٰ سے کام لینے والے ہو تو پھر تم پر فرض ہے کہ یہ احسان کرو۔آنحضرت ﷺ نے اس کی کس حد تک پابندی فرمائی، اس کا اظہار ایک حدیث سے ہوتا ہے۔ایک دفعہ ایک انصاری نے شادی کی اور پھر اس عورت کو چھونے سے پہلے طلاق دے دی اور اس کا مہر بھی مقرر نہیں کیا گیا تھا۔یہ معاملہ جب آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ نے اس سے پوچھا کہ تو کیا تم نے احسان کے طور پر اُسے کچھ دیا ہے؟ تو اس صحابی نے عرض کیا یا حضور ! یا رسول اللہ! میرے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں کہ میں اسے کچھ دے سکوں۔تو آپ نے فرمایا کہ اگر کچھ نہیں ہے تو تمہارے سر پر جوٹو پی پڑی ہوئی ہے وہی دے دو۔(روح المعانی جلد نمبر 1 صفحہ 745,746 تفسیر سورة البقرة زير آيت : 237) تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس قدر عورت کے حقوق کا آنحضور ﷺ نے اظہار فرمایا اور خیال رکھا۔یہ جو صورتحال بیان ہوئی ہے کہ اگر حق مہر مقرر نہیں بھی ہوا تو کچھ نہ کچھ دو تو اسی صورتحال میں اگر حق مہر پہلے مقرر ہو چکا ہے اس صورت میں کیا کرنا ہے؟ اس کا بھی اگلی آیات میں بڑا واضح حکم ہے کہ ایسی صورت میں پھر جب حق مہر مقرر ہو چکا ہو تو اس کا نصف ادا کرو۔