خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 227
227 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرموده 15 مئی 2009 اصلاح کی اگر کوئی بھی صورت نہیں تو گالمُعلقة یعنی لٹکتا ہوا نہ چھوڑ دو۔پھر اس کا حق دے کر احسن طریق پر اسے رخصت کرو۔اگر یہ گالمُعَلَّقہ چھوڑا ہے کسی مرد نے تو اس صورت میں بیوی کو بھی اختیار ہے کہ قاضی کے ذریعہ سے خلع لے لے۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک مومن مرد اور ایک مومن عورت تبھی تقویٰ پر چلنے والے ہوں گے جو محبت پیار سے رہنے کی کوششیں کریں گے اور اگر یہ تمام کوششیں ناکام ہو جائیں تو ایک دوسرے سے شرافت سے علیحدہ ہو جائیں۔اور مرد بھی احسن طور پر عورت کے حقوق ادا کر کے اسے علیحدہ کر دے تو یہی مرد پر فرض ہے اور عورت کا حق ہے۔اور کیونکہ تقویٰ پر چلتے ہوئے اکٹھے رہنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اس لئے علیحدگی ہو رہی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اپنی وسیع تر رحمتوں اور فضلوں سے دونوں مرد اور عورت کے لئے بہترین سامان پیدا فرما دے گا اور انہیں اپنی جناب سے غنی اور بے احتیاج کر دے گا۔گو ایک حدیث کے مطابق مرد اور عورت کا علیحدہ ہونا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں انتہائی نا پسندیدہ فعل ہے۔(ابوداؤ د کتاب الطلاق باب کراھیة الطلاق؛ حدیث نمبر ( 2178) لیکن کیونکہ تقویٰ پر چلتے ہوئے اس رشتے کو قائم رکھنے کی تمام تر کوششیں جو تھیں وہ نا کام ہو چکی ہیں اس لئے خدا تعالیٰ جو دلوں کا حال جانتا ہے جب اس کی طرف جھکتے ہوئے یہ فیصلے کرنے پڑیں کہ بحالت مجبوری علیحدگی لینی پڑے، تو وہ اپنے واسع ہونے کی وجہ سے دونوں کے لئے پھر وسیع انتظام فرماتا ہے۔کیونکہ وہ حکیم بھی ہے اس لئے جو فیصلے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے کئے جائیں وہ پر حکمت بھی ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رہنمائی لئے ہوئے ہوتے ہیں۔اس آیت میں ایک اصولی بات یہ بھی بیان ہو گئی ہے کہ رشتوں کے فیصلے جذبات میں آکر نہیں کرنے چاہئیں۔نہ ماں باپ کی طرف سے نہ لڑکے لڑکی کی طرف سے کسی جذباتی پن کا اظہار ہو جائے یا جذباتی پن کا اظہار کرتے ہوئے رشتے طے کر دیئے جائیں بلکہ خدا تعالیٰ جو ہر بات کا جاننے والا اور احاطہ کئے ہوئے ہے اس سے مدد لیتے ہوئے دعا کر کے سوچ سمجھ کر رشتے جوڑنے چاہئیں اور جب ایسے رشتے جڑتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان میں اللہ پھر اپنے فضل سے وسعتیں بھی پیدا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں غنی کر دیتا ہے، ان کے مال میں بھی اللہ تعالی کشائش پیدا کر دیتا ہے۔ان کے تعلقات میں بھی کشادگی پیدا کر دیتا ہے۔میں نے طلاق کا ذکر کیا تھا کہ بعض مرد طلاق کے معاملات کو لٹکاتے ہیں اور لمبا کرتے چلے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔تو ایک تو جب شادی ہو جائے کچھ عرصہ مرد اور عورت اکٹھے بھی رہتے ہیں اور اولاد بھی بسا اوقات ہو جاتی ہے۔پھر طلاق کی نوبت آتی ہے۔اس کے حقوق تو واضح ہیں جو دینے ہیں مرد کے فرائض ہیں، بچوں کے خرچ بھی ہیں، حق مہر وغیرہ بھی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض اوقات ایسے حالات پیش آ جاتے ہیں جب ابھی