خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 204
204 خطبه جمعه فرموده یکم مئی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ہوا چلے تو فصل کو یہ فائدہ ہوگا۔ٹھنڈی ہوائیں اس وقت میں اگر فلاں فصل کو فائدہ پہنچارہی ہوتی ہیں تو دوسرے وقت میں وہی نقصان پہنچار ہی ہوتی ہیں۔تو یہ سب کچھ جو خدا تعالیٰ نے بنایا ہے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ میری ہستی کا ثبوت ہیں۔اس لئے کائنات پر اور زمین و آسمان کی بناوٹ پر اور رات دن کے ادلنے بدلنے پر اور موسموں کے تغیر پر غور کر کے انسان کو یقینا خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین پیدا ہوتا ہے اور ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے یہ سب بیان کر کے اعلان فرمایا کہ نہ صرف میں نے یہ چیزیں پیدا کی ہیں بلکہ ان کا نگران بھی ہوں اور جہاں رحمانیت کے جلوے دکھاتے ہوئے عمومی طور پر اپنی پیدائش سے دنیا کو فائدہ پہنچاتا ہوں وہاں رحیمیت کے تحت غیر معمولی نشان بھی دکھلاتا ہوں۔ایک دفعہ مکہ میں سات سال تک قحط کا سماں رہا۔بہت لمبا عرصہ قحط پڑا رہا اور یہاں تک حالت آگئی کہ لوگ چمڑے اور ہڈیاں تک کھانے پر مجبور ہو گئے۔تو اس وقت آنحضرت علی کی خدمت میں جب سردار مکہ نے حاضر ہو کر بد داور دعا کی درخواست کی تو آپ نے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کے سب سے بڑے پر تو تھے دعا کی تو تب جا کے یہ حجاز کی خشک سالی جو تھی دور ہوئی اور ان کو کھانے کو ملا۔اور پھر ایک مرتبہ مدینہ کے لوگوں نے بارش کے لئے عا کی درخواست کی۔آپ نے دعا کی تو اچانک بادل نمودار ہوئے اور بارش برسنی شروع ہوگئی اور برستی چلی گئی۔یہاں تک کہ صحابہ نے پھر ایک ہفتہ کے بعد آ کر آپ کی خدمت میں بارش کے روکنے کی دعا کی درخواست کی۔پھر آپ نے دعا کی کہ اے اللہ تعالیٰ ہمارے اردگرد بارش برسا اور ہمارے اوپر نہ برسا کیونکہ مکان گرنے شروع ہو گئے ہیں۔جہاں فائدہ مند ہے وہاں برسا۔تو پھر اُس قادر خدا نے اس دعا کو اپنے فضل سے قبول فرمایا۔(سنن ابن ماجہ کتاب اقامة الصلوة والسنتة فيها باب ماجاء فی الدعاء فى الاستسقاء حديث 1269) پھر آپ ﷺ کی امت میں ایسے نفع رساں وجود بھی خدا تعالیٰ نے پیدا کئے جن کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اپنی خدائی کا ثبوت دیتے ہوئے لوگوں کے فائدے کے سامان پیدا فرمائے۔اور اس زمانہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی ایسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہے۔جہاں آپ کی دعاؤں سے لوگوں فائدہ ہوا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جو اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں میں نے تمہارے لئے مسخر کیا ہے یعنی تمہاری خدمت پر لگایا ہوا ہے۔اس کو دیکھ کر تمہارے ایمانوں میں ترقی ہونی چاہئے۔اور پھر اللہ تعالی نے اس ظاہری یا دنیاوی مثال اور مادی مثال کو روحانی نظام پر بھی منطبق فرمایا ہے۔بلکہ روحانی نظام تو اس سے بھی زیادہ وسیع تر ہے۔کیونکہ اس دنیا کے فائدے اور نفع یہیں رہ جانے ہیں۔لیکن روحانیت کے کمائے ہوئے فائدے اخروی زندگی میں کام آنے والے ہیں۔پس ایک مومن آسمان اور زمین کی پیدائش سے صرف اس دنیا کے فوائد کے حصول کا ذریعہ نہیں سمجھتا بلکہ ان پر غور کر کے خدا تعالیٰ کی واحدانیت اور اس پر یقین اور آخرت پر ایمان اور بھی مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے۔پھر جس طرح رات اور دن کے انسانی زندگی پر اور ضروریات پر ظاہری اثرات اور فوائد ہیں اسی طرح رات اور دن کی مثال دے کر