خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 205 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 205

205 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده یکم مئی 2009 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روحانی طور پر بھی اندھیرے کے بعد روشنی کے سامان میں پیدا کرتا ہوں جس سے روحانی ظلمتیں ختم ہو جاتی ہیں اور اپنے فرشتوں اور انبیاء اور مامورین کے ذریعے ان ظلمتوں کو دُور کرنے کے لئے سامان مہیا کرتا ہوں اور کسی زمانہ میں بھی اس نو ر اور روشنی کو ظاہر کرنے سے خدا تعالیٰ نے لاتعلقی کا اظہار نہیں کیا، لا تعلق نہیں رہا۔بلکہ ہر زمانہ میں وہ اپنا نور اور روشنی دیتا رہا ہے۔اس زمانہ میں بھی اپنے وعدے کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا، جنہوں نے پھر نئے سرے سے ہمیں اسلام کے نور سے روشناس کرایا۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس طرح مادی دنیا میں انسان کی بہتری کے لئے کشتیوں کے ذریعہ سے محفوظ طریقے پر نقل و حمل کے ذرائع پیدا فرمائے ہیں۔اسی طرح روحانی دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو بھیجتا ہے جو روحانی کشتیاں تیار کرتے ہیں۔جو بلاؤں اور آفات کے سمندر میں اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں اور ان کے ماننے والوں کو منزل مقصود تک پہنچاتی ہیں اور وہ منزل مقصود ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اور دنیا و آخرت کی بھلائی۔ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان کبھی بھی اور کسی زمانہ میں بھی اپنے بندوں پر ختم نہیں ہوا۔جیسا کہ پہلے بھی میں نے بیان کیا ہے۔جب بھی خدا تعالى ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم : 42) کی حالت دیکھتا ہے۔اس دنیا میں فتنہ وفساد کے حالات دیکھتا ہے اور جب یہ حد سے بڑھنے لگتے ہیں تو اپنے بندوں کو، انسانوں کو ، اپنی مخلوق کو اس سے بچانے کے لئے اپنے چنیدہ بندے بھیجتا ہے جو ایک کشتی تیار کرتے ہیں، جو ان کے ماننے والوں کو محفوظ طور پر طوفان سے نکال کے لے جاتی ہے۔اور آج یہ کشتی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بنائی ہوئی کشتی ہے اور اس میں سوار وہی لوگ شمار ہوں گے جو اس کا حق ادا کرنے والے ہوں گے۔یا حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں گے۔اور اس کے حق کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ، کہ کس طرح حق ادا کرتا ہے ایک کتاب تحریر فرمائی تھی کشتی نوح“ کے نام سے۔جس میں آپ کے زمانہ میں جب طاعون کی وبا پھوٹی تو اس سے بچنے کا روحانی علاج بتایا۔آپ اس کتاب میں تحریر فرماتے ہیں کہ : اور اگر یہ سوال ہو کہ وہ تعلیم کیا ہے کہ جس کی پوری پابندی طاعون کے حملے سے بچا سکتی ہے تو میں بطور مختصر چند سطریں نیچے لکھ دیتا ہوں“۔کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحه 10) اور پھر آپ نے تعلیم کے نام سے ایک تفصیل بیان فرمائی اس کتاب میں۔جس میں آپ نے ہمیں ہوشیار کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ زبان سے بیعت کا اقرار کرنا کچھ چیز نہیں جب تک دل کی عزیمت سے اس پر پورا عمل نہ ہو“۔( یعنی پورے پکے دل کے ارادے سے اس پر عمل کرنے کی کوشش ہو )۔اور یہ کہ یہ مت خیال کرو کہ ہم نے ظاہری طور پر بیعت کر لی ہے ظاہر کچھ چیز نہیں خدا تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور اسی کے موافق تم سے معاملہ کرے