خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 116 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 116

خطبات مسرور جلد هفتم 116 خطبه جمعه فرموده 27 فروری 2009 والسلام کی تائید فرمارہا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ دنیا کو ہدایت کا راستہ دکھاتا چلا جائے اور ہمیں بھی ہدایت پہ ہمیشہ قائم رکھے۔صل الله آنحضرت ﷺ نے ہدایت پر قائم رہنے کے لئے بھی بہت ساری دعائیں سکھائی ہیں۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول ﷺ نے فرمایا کہ تو کہہ کہ اے اللہ ! مجھے ہدایت دے اور مجھے سیدھے راستے پر رکھ اور ہدایت کے ساتھ اپنے سیدھے راستے کو بھی یا درکھ اور سیدھار کھنے سے مراد تیر کی طرح سیدھا (مسلم کتاب الذكر والدعاء باب التعوذ من شر ما عمل۔۔۔حدیث نمبر 6805) ہونا ہے۔سیدھے راستے کی ہدایت کے بارے میں پہلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباس میں بتا چکا ہوں کہ تین باتیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئیں کہ حقوق اللہ کی ادائیگی ، حقوق العباد کی ادائیگی اور اپنے نفس کے حق کی ادا ئیگی لیکن ان سب کا بنیادی مقصد جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور خدا تعالیٰ کی طرف لے کے جانا ہے۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو یا درکھنا چاہئے۔اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے۔ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو اخوص کو عبد اللہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی کریم کی دعا کیا کرتے تھے کہ اے میرے اللہ میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، عفت، پاکبازی اور غنٹی مانگتا ہوں۔( ترمذی کتاب الدعوات باب 72/72 حدیث نمبر (3489) پھر ایک دعا سکھائی۔ابو مالک سے روایت ہے جو انہوں نے اپنے والد سے کی ہے کہ جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا تو رسول اللہ ﷺ ان الفاظ میں دعا سکھایا کرتے تھے کہ اللّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَ ارْزُقْنِي کہ اے اللہ مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت عطا کر اور مجھے رزق عطا کر۔(مسلم كتاب الذكر والدعاء باب فضل التهليل والتسبيح والدعاء حديث نمبر (6743 جیسا کہ میں نے پہلے کہا جس کو اللہ ہدایت دیتا ہے پھر ہمیشہ اس میں اُسے بڑھاتا بھی ہے۔یہ کہیں رکنے والی چیز نہیں ہے۔ہدایت تو ہمیشہ آگے لے جاتی ہے۔جوں جوں انسان ہدایت یافتہ ہوتا ہے اس کا مقام بڑھتا چلا جاتا ہے۔اور یہ دعا اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں سکھائی ہے۔اور اس کی پہلے بھی میں کئی دفعہ جماعت کو تحریک کر چکا ہوں۔جو بلی کی دعاؤں میں بھی شامل تھی۔اب بعض لوگ سوال پوچھتے ہیں کہ جو بلی کی جو دعا ئیں تھیں ، اب سال ختم ہو گیا ہے تو کیا اب وہ دعا ئیں بند کر دیں؟ دعا ئیں تو پہلے سے بڑھ کر انسان کو کرنی چاہئیں۔یہ دعا ئیں تو صرف ایک عادت ڈالنے کے لئے تھیں تا کہ آئندہ صدی میں مزید بڑھ کر دعاؤں کی توفیق ملے۔اس لئے بند کرنے کا سوال نہیں۔اب تو ہر احمدی کا کام اس سے بھی بڑھ کر دعائیں کرنے کا ہے۔