خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 106
106 خطبه جمعه فرموده 27 فروری 2009 صل الله خطبات مسرور جلد ہفتم بھائی سے لڑا دیا ، باپ کو بیٹے سے لڑا دیا ، ماں بچوں کو علیحدہ کر دیا۔بہر حال انہوں نے کہا کہ وہ بڑے جادو بیان ہیں اور اس وجہ سے لوگ ان کی باتوں میں آجاتے ہیں۔آپ قوم کے سردار بھی ہیں اس لئے ان سے بیچ کے رہیں اور ان کی کوئی بات نہ سنیں۔جس طرح آج کل کے مولویوں کا بھی یہ حال ہے کہتے ہیں کہ احمدیوں کی کوئی بات نہ سنو۔ان سے بیچ کے رہو۔کسی بھی قسم کی مذہبی گفتگو ان سے نہ کرو نہیں تو یہ تمہیں اپنے جادو میں پھنسا لیں گے۔اور اسی وجہ سے اب تک 1974ء کی اسمبلی میں جو کارروائی ہوئی تھی اس کو انہوں نے چھپا کے رکھا ہوا ہے کہ اس کارروائی سے پاکستان کے لوگوں پر، قوم پر واضح ہو جائے گا کہ حق کیا ہے اور صداقت کیا ہے؟ بہر حال طفیل کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے اتنی تاکید کی کہ میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ میں آنحضرت میے کے قریب بھی نہیں پھٹکوں گا اور اس وجہ سے کہ کہیں غیر ارادی طور پر ان کی آواز میرے کان میں نہ پڑ جائے میں نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی۔کہتے ہیں کہ جب میں خانہ کعبہ میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺے کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔غیر ارادی طور پر یا ارادہ بہر حال کہتے ہیں کہ میں قریب جا کے کھڑا ہو گیا اور آپ کی تلاوت کے چند الفاظ باوجود اس روئی ٹھونسنے کے میرے کان میں پڑ گئے اور مجھے یہ کلام بڑا اچھا لگا۔تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ میرا برا ہو کہ میں ایک عقلمند شاعر ہوں اور برے بھلے کو اچھی طرح جانتا ہوں۔آخر اس شخص کی بات سنے میں کیا حرج ہے؟ اگر اچھی بات ہوگی تو میں اسے قبول کرلوں گا اور بری ہوگی تو چھوڑ دوں گا۔اللہ تعالیٰ نے آخر مجھے عقل دی اللہ تعالیٰ تو نیک فطرتوں کی اس طرح راہنمائی فرماتا ہے۔بہر حال کہتے ہیں کچھ دیر میں نے انتظار کیا؟ آنحضرت عبادت سے فارغ ہوئے اور اپنے گھر کی طرف تشریف لے گئے تو میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔آنحضرت ﷺ جب اپنے گھر میں داخل ہونے لگے تو میں نے کہا اے محمد اعلﷺ۔آپ کی قوم نے مجھے آپ کے بارے میں یہ یہ کہا ہے کہ بڑے جادو بیان ہیں۔گھروں میں آپس میں پھوٹ ڈال دی ہے۔قوم میں لڑائی اور فتنہ وفساد برپا کر دیا ہے اور اتنا ڈرایا ہے کہ میں نے اس وجہ سے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی ہے کہ کہیں آپ کی کوئی آواز میرے کان میں نہ پڑ جائے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر بھی مجھے آپ کا کلام سنوا دیا اور جو میں نے سنا ہے وہ بڑا عمدہ کلام ہے۔مجھے اور کچھ بتائیں۔طفیل کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے اسلام کے بارے میں مزید کچھ بتایا اور قرآن شریف پڑھ کے سنایا۔کہتے ہیں کہ خدا کی قسم !میں نے اس سے خوبصورت کلام اور اس سے زیادہ صاف اور سیدھی بات کوئی نہیں دیکھی۔تو یہ سننے کے بعد پھر میں نے اسلام قبول کر لیا اور کلمہ پڑھ لیا۔پھر میں نے آنحضرت کی خدمت میں عرض کی کہ میں قوم کا سردار ہوں اور امید ہے میری قوم میری بات مانے گی۔میں واپس جاکے اپنی قوم کو اسلام کی تبلیغ کروں گا۔آپ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے کامیابی عطا فرمائے اور اس کے مقابلے میں مجھے کوئی تائیدی نشان بھی بتا ئیں۔تو آنحضرت ﷺ نے ایک دعا کی اور میں اپنی قوم کی طرف واپس لوٹا۔روایت میں ہے کہ جب میں جار ہا تھا تو ایک گھائی پہ پہنچا جہاں آبادی کا آغاز ہوتا ہے۔میں نے جیسے روشنی سی محسوس