خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 105
خطبات مسرور جلد ہفتم 9 105 خطبه جمعه فرموده 27 فروری 2009 فرموده مورخہ 27 فروری 2009ء بمطابق 27 تبلیغ 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: يَهْدِى بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (المائده : 17) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اِس کے ذریعہ انہیں جو اس کی رضا کی پیروی کریں سلامتی کی راہوں کی طرف ہدایت دیتا ہے اور اپنے اذن سے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکال لاتا ہے اور انہیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔یہ اسلام کا خدا ہے جس نے 1500 سال پہلے آنحضرت ہی اللہ کو انتہائی تاریکی کے زمانہ میں بھیجا اور آپ کے ذریعہ سے یہ اعلان بھی فرما دیا کہ جب پھر تاریکی کا دور آئے گا تو آخرین میں سے بھی تیرا ایک غلام صادق کھڑا کروں گا جو قرآن کریم کی حقیقی تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کرے گا اور اس کے ذریعہ سے پھر دنیا اسلام کی حقیقی تعلیم کو جانے گی۔اسلام کا خدا زندہ خدا ہے جو دنیا کی سلامتی اور ہدایت کے لئے ہر زمانہ میں اپنے خاص بندوں کو بھیجتا ہے تا کہ دنیا کوسیدھے راستے کی طرف چلا ئیں۔لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ سعید فطرتوں کو ہدایت دیتا ہے۔جو اس کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو ہدایت دیتا ہے۔جو ہدایت کی تلاش میں ہوتے ہیں انہیں ہدایت دیتا ہے۔اس وقت میں آنحضرت ﷺ کے زمانے کے اور پھر آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے جو اس زمانہ کے بعض واقعات پیش کروں گا جن سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح کوشش کرنے والوں کی ان کی کسی نیکی کی وجہ سے ہدایت کی طرف راہنمائی فرماتا ہے۔آنحضرت ام اللہ کے وقت میں طفیل بن عمرو ایک معزز انسان اور ایک عقلمند شاعر تھے جب وہ ایک دفعہ ایک مشاعرے کے سلسلہ میں مکہ آئے ( کاروبار کے لئے بھی آیا کرتے تھے تو بہر حال ایک سفر میں مکہ آئے ) تو قریش کے بعض لوگوں نے انہیں کہا کہ اے طفیل ! آپ ہمارے شہر میں آئے ہیں تو یاد رکھیں کہ اس شخص ( یعنی آنحضرت ﷺ کا نام لے کے کہا) نے (نعوذ باللہ ) ایک عجیب فتنہ برپا کر رکھا ہے اور اس نے ہماری جمیعت کو منتشر کر دیا ہے۔بھائی کو