خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 64

64 خطبه جمعه فرموده 6 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم نہیں مانتے خلافت آنہیں سکتی اور پھر نتیجہ وہی حال رہے گا جس کا یہ اکثر شکوہ کرتے رہتے ہیں۔وقتاً فوقتاً اخباروں میں بھی آتا رہتا ہے۔کالم لکھنے والے بھی لکھتے ہیں۔علماء اپنی تقریروں میں بھی کہتے رہتے ہیں کہ اس اُمت میں سے اللہ تعالیٰ نے مسیح و مہدی بھیجنا ہے اور اس کے لئے دعا بھی اللہ تعالیٰ نے خود ہمیں سکھائی ہے۔اگر پھر بھی نہ مانیں اور دعائیں بھی کرتے چلے جائیں تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو ایک راستہ سکھا دیا ہے کہ یہ دعا کرو اور سنجیدگی سے کرو تو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔اس بات کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: نبوت محمد یہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اس میں فیض ہے۔اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے مکالمہ مخاطبہ کا اس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا۔اور جبکہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کا بندے کے ساتھ جو کلام ہے اس کا معیار اتنا اعلیٰ ہو جاتا ہے کہ کوئی گندگی اور کوئی کبھی اس میں باقی نہ رہے۔اور کھلے طور پر امور غیبیہ پرمشتمل ہوں اور بالکل ظاہر طور پر اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کو غیب کی باتیں بھی بتا رہا ہو۔فرماتے ہیں کہ تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا جو کلام ہے۔بندے کا جو باتیں کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کا جو بندے کو مخاطب کرنا ہے۔غیب کی جو باتیں سنانا ہے، یہ جب انتہاء تک پہنچ جائے تو اسی کا نام نبوت ہے۔جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔پس یہ مکن نہ تھا کہ وہ قوم جس کے لئے فرمایا گیا کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( آل عمران: 111) کہ تم وہ امت ہو کہ جولوگوں میں سے بہترین امت قرار دی گئی ہے ) اور جن کے لئے یہ دعا سکھائی گئی کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحہ : 6-7 ) ان کے تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا اور ایسی صورت میں صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ امت محمد یہ ناقص اور نا تمام رہتی اور سب کے سب اندھوں کے طرح رہتے بلکہ یہ بھی نقص تھا کہ آنحضرت ﷺ کی قوت فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہر تی تھی اور ساتھ اس کے وہ دعا جس کا پانچ وقت نماز میں پڑھا تعلیم کیا گیا تھا۔اس کا سکھلانا بھی عبث ٹھہرتا تھا۔“ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ صفحہ 311-12) ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدہ کے لئے نکالی گئی ہو۔دوسری طرف یہ دعا سکھائی کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سیدھے راستے پر چلاتا رہے اور ان لوگوں کے راستے پر جن پر انعام کیا۔اور انعامات کیا ہیں؟ نبوت ہے، صدیقیت ہے،شہید ہونا ہے، صالح ہونا ہے۔فرمایا