خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 65 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 65

خطبات مسرور جلد ہفتم 65 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 فروری 2009 کہ ایک طرف تو یہ دعائیں سکھائی گئی ہیں۔ایک طرف تو یہ کہا گیا ہے کہ تم بہترین امت ہو۔اس کے باوجود آنحضرت ﷺ کی امت میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں ہے جس کو نبوت کا یہ مقام مل سکے۔اللہ تعالیٰ غیب کی خبریں اس کو دے اور اس سے باتیں کرے۔گویا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی یہ دعا جو ہم پانچ وقت نمازوں میں کئی بار پڑھتے ہیں اور دنیا کے ہر کونے میں جہاں بھی مسلمان رہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے یہ دعا کر رہا ہے لیکن پھر بھی خدا تعالیٰ اسے قبول نہیں کر رہا۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کئی لوگوں کو کہا کہ یہ دعا پڑھو۔اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔اور جن کو اللہ تعالیٰ نے ، یہ کہنے میں تو کوئی حرج نہیں کہ اللہ تعالیٰ راہنمائی فرمائے اور پھر اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اُن کی صحیح راہنمائی فرمائی۔پس اپنی ذات سے باہر نکل کر، اپنی سوچوں سے باہر نکل کر اور اپنے او پر جو خول چڑھایا ہوا ہے اس سے باہر نکل کر اپنے ذہنوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عناد سے پاک کر کے دعا مانگی جائے گی تو پھر اللہ تعالی را ہنمائی بھی فرمائے گا۔یہ تو خدا تعالیٰ کو الزام دینے والی بات ہے کہ ایک طرف وہ کہے کہ میرے سے دعا مانگو میں قبول کروں گا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن (61) اور تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو، ہمیں تمہاری دعاسنوں گا۔اور پھر دعانہ سنے۔ہماری دنیاوی معاملات کی دعا ئیں تو ہم ہر روز کہتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سن لیں ، قبول ہو گئیں۔ہمیں یہ مل گیا۔ہمیں وہ مل گیا۔لیکن انسان کی اپنی روحانی بہتری کے لئے کی جانے والی دعا ئیں جو اللہ تعالیٰ نے خود سکھائی ہیں وہ نہ سنے۔ایک طرف تو یہ حکم ہے کہ میرے سے اپنی ہدایت کے لئے دعا مانگو۔اور اس حالت میں جبکہ دین کو ایک ہادی کی ضرورت ہے تو انسان پر خاص طور پر دعامانگنے کی اضطراری کیفیت طاری ہوتی ہے (جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباس میں میں نے بتایا )۔پس اللہ تعالیٰ کو اس کا وعدہ یاد دلا کر یہ دعا مانگی جائے کہ تو ایسی حالت میں ہادی بھیجتا ہے اور پھر خود ہی اللہ تعالیٰ یہ بھی کہہ دے کہ باقی دعائیں تو قبول لیکن یہ دعا قبول نہیں ہوگی۔تو یہ اللہ تعالیٰ پر الزام ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات پہ الزام ہے۔امت مسلمہ کی کسمپرسی کی جو حالت ہے وہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔اس میں تو شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ یہ کہے کہ ٹھیک ہے۔یہ تو میری وہ امت ہے جو أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ، خیر امت ہے لیکن اس کی کسمپرسی کی حالت بھی بہت بڑھ گئی ہے۔تو بے شک بڑھتی رہے، بے شک یہ شور اٹھتار ہے کہ نہ دین باقی رہا اور نہ ایمان باقی رہا۔لیکن میں تمہاری یہ دعا قبول نہیں کروں گا کہ ہادی بھیجوں جو تمہاری، دین کی راہنمائی فرمائے۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ کہے کہ بے شک تم اپنی ناکیں رگڑتے رہو میں تو اب تمہاری ہدایت کا کوئی سامان کرنے والا نہیں ہوں۔جو میں نے کرنا تھا وہ کر دیا۔اب ہدایت کے راستے سب ختم ہو گئے۔ہاں یہ ضرور ہے جس کا اعلان بارہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ چاہے دعا کرتے اور اپنی ناکیں رگڑتے