خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 63
خطبات مسرور جلد ہفتم 63 خطبه جمعه فرموده 6 فروری 2009 ) وہ شیطانی لشکروں کا مقابلہ کرے اور یہ دونوں (رحمانی اور شیطانی لشکر برسر پیکار رہتے ہیں اور ان کو وہی دیکھتا ہے جس کو دو آنکھیں عطا کی گئی ہوں یہاں تک کہ باطل کی گردنوں میں طوق پڑ جاتے ہیں اور امور باطلہ کی سراب نما دلیلیں معدوم ہو جاتی ہیں۔پس وہ امام دشمنوں پر ہمیشہ غالب اور ہدایت یافتہ گروہ کا مددگار رہتا ہے۔ترجمہ اعجاز امسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 131 تا 133 تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ 92-93) پس یہ ہے ہادی خدا ، جو ہدایت کے راستوں کی طرف لانے کے لئے اپنی صفت ربوبیت کو بھی حرکت میں لاتا ہے۔لیکن جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ غلبے کے اثرات دشمنوں پر اس طرح ظاہر ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہدایت یافتہ گروہ کی مدد فرماتا ہے اور جو فساد پیدا کرنے والے لوگ ہیں ان کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روک دیتا ہے بلکہ ان طاقتوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانے میں دیکھ لیں۔کہاں عیسائیت کی یلغار تھی کہ عیسائیت دنیا میں ہر جگہ کامیابیوں سے میدان مارتی چلی جارہی تھی۔یہاں تک کہ ہندوستان کے جو مسلمان تھے وہ بھی اس کی لپیٹ میں آ کر دھڑادھڑ عیسائیت قبول کر رہے تھے۔ہندوستان میں عیسائیت کے غلبے کے خواب عیسائی مشنریز دیکھ رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے نہ صرف وہاں ہندوستان میں ان کے قدم روک دئے بلکہ پسپائی پر مجبور کر دیا۔بلکہ افریقہ جو ان دنوں عیسائی مشنریز کے نزدیک ان کی مٹھی میں تھا اس کے متعلق بھی ان کو یہ کہنا پڑا کہ احمدیت نہ صرف یہاں ہماری ترقی کی رفتار روک رہی ہے بلکہ ہمارے قدم اکھاڑ دیئے ہیں۔تو اس طرح اللہ تعالیٰ ہدایت کے راستوں پر چلانے کے لئے اپنی ربوبیت کا اظہار فرماتے ہوئے اپنے امام کو بھیجتا ہے۔لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا کہ ان کو وہی دیکھتا ہے جن کو دو آنکھیں عطا کی گئیں۔وہی امام کو قبول کرتا ہے جس کی صرف دنیا کی آنکھ نہ ہو۔جو صرف دنیاوی چیزوں پر ہی منہ مارنے والا نہ ہو بلکہ دین کا بھی در در کھنے والا ہو، اس کی دین کی آنکھ ہو۔بڑے بڑے مسلمان علماء جو دین کا علم رکھنے کا دعوئی رکھتے ہیں ، حضرت مسیح موعود کی مخالفت میں اندھے ہو کر اس علم کو جو انہوں نے حاصل کیا ہوتا ہے غلط راستے پر لے جاتے ہیں اور پھر اپنے اس علم کی بنا پر مسلم امہ کو بھی گمراہ کر رہے ہوتے ہیں۔حالانکہ دوسری طرف اس زمانے کے علماء بھی یہی مانتے ہیں ( جس کی تفصیل میں پرانے خطبوں میں بیان کر چکا ہوں ) کہ اسلام میں، دین میں، مسلمانوں میں بگاڑ کی انتہا ہو چکی ہے۔مسلمانوں میں دین نام کا رہ گیا ہے اور خلافت کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔لیکن خلافت کی جو پہلی کڑی ہے اس کے بارہ میں اب انہوں نے سوچنا چھوڑ دیا ہے اور وہ ہے مسیح و مہدی کا آنا۔اس کے بعد ہی پھر خلافت قائم ہو سکتی ہے۔لیکن اس کے لئے ابھی تک اس نظریہ پر ہی قائم ہیں کہ حضرت عیسی آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں اور وہ آئیں گے۔پھر مہدی کے ساتھ مل کر دین پھیلے گا۔حدیثوں کو غلط سمجھتے ہوئے اپنی سوچ بنائی ہوئی ہے۔جو بھی ہو ، جب تک نبوت کو