خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 591 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 591

591 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 18 دسمبر 2009 کریم میں بتائی ہیں تبھی دوسروں کو ہم فائدہ پہنچا سکتے ہیں تبھی ہم یہ اعزاز حاصل کرنے والے بن سکتے ہیں۔ورنہ جیسا کہ میں نے کہا دوسرے اس سے کیا سبق حاصل کریں گے۔پس ہر احمدی کو اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر اس پر بہت بڑی ذمہ داری پڑ گئی ہے اور اس بات کی شکر گزاری کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف مزید توجہ دیں کہ جب زمین آپ پر تنگ کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں پھیلنے کی توفیق دی۔آپ کا دنیا میں نکلنا آپ کے کسی استحقاق کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا اور اس لئے بھی تھا کہ بعض مسلمانوں کے عمل سے جب اسلام کے خلاف بغض اور عناد کی دیوار میں بعض طبقات کی طرف سے کھڑی کی جائیں گی تو اس وقت احمدی وہاں موجود ہوں جو اپنے نمونے سے اور اس حقیقی اسلام کی تعلیم کے اظہار سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے پیش فرمائی ہے اسلام کا دفاع کریں۔دنیا کو دکھا ئیں کہ آؤ دیکھو مساجد کی کیا حقیقت ہے۔آؤد یکھو ہم تمہیں بتائیں کہ میناروں کی کیا حقیقت ہے۔آؤ دیکھو ہم تمہیں بتائیں کہ اعلیٰ اخلاق کیا ہیں۔آؤ ہم تمہیں بتائیں کہ نیکیاں کس طرح پھیلائی جاتی ہیں اور برائیاں کس طرح دُور کی جاتی ہیں۔آؤ ہم تمہیں بتائیں کہ دنیا کا امن کس طرح قائم کیا جا سکتا ہے۔پس یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو آج احمدیوں کے ذمہ لگائی گئی ہے۔دنیا کو بتانا ہے کہ یہ حقیقی اسلام ہے جو جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے اور اس کے پھیلانے کی خاطر ہر احمدی مرد، عورت، بچہ، جوان اپنی جان، مال، وقت اور عزت قربان کرنے کا عہد کرتا ہے۔اگر ہم نے اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے ممتاز نہ کیا تو ہم اسلام کا دفاع کسی صورت نہیں کر سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں : ”میں بار بار اور کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ ظاہر میں تو ہماری جماعت اور دوسرے مسلمان دونوں مشترک ہیں۔تم بھی مسلمان ہو ، وہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں۔تم بھی کلمہ گو ہو، وہ بھی کلمہ گو ہیں۔تم بھی اتباع قرآن کریم کا دعویٰ کرتے ہو ، وہ بھی اتباع قرآن ہی کے مدعی ہیں۔غرض دعووں میں تم اور وہ دونوں برابر ہو۔مگر اللہ تعالیٰ صرف دعووں سے خوش نہیں ہوتا جب تک کوئی حقیقت ساتھ نہ ہو اور دعوی کے ثبوت میں کچھ عملی ثبوت اور تبدیلی حالت کی دلیل نہ ہو“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 604 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس خیر امت بننے کے لئے حقیقی تعلیم پیش کرنے کے لئے ہمیں عملی ثبوت پیش کرنے ہوں گے۔اپنی حالتوں کو بدلنا ہوگا۔اپنی عبادتوں کے معیار قائم کرنا ہوں گے۔اپنے اعلیٰ اخلاق کے معیار بلند کرنے ہوں گے۔آپس میں محبت اور پیار اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنی ہوگی اور پھر اس کو معاشرے میں پھیلانا ہوگا۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔