خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 590
590 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم حکم ہے کہ اگر تمہیں توفیق ہے تو اگر تم پر دینی تنگیاں وارد کی جاتی ہیں تو ہجرت کر جاؤ۔آپ میں اکثر اس وجہ سے یہاں آئے ہیں اور جرمن حکومت کی بھی یہ مہربانی ہے کہ انہوں نے اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے کہ آپ اپنے ملک میں آزاد نہیں ہیں ، بعض تنگیاں وارد کی جارہی ہیں، آپ کو یہاں رہنے کی اجازت دے دی۔اس لئے ہمیشہ یہ ذہن میں رکھیں کہ اگر آپ نے خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہے، اگر حقیقی احمدی کہلانا پسند کرتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ کے دنیوی اور اخروی انعاموں کو بھی اپنے اور پھر اپنی نسلوں پر بھی نازل ہوتے دیکھنا ہے تو ان مومنین میں سے بننا ہوگا جو عبادتوں کا بھی حق ادا کرنے والے ہیں۔اپنے رکوع و سجود سے کامل فرمانبرداری کا اظہار کرنے والے ہیں۔نیکیوں کو اپنے اوپر لاگو کرنے والے ہیں اور معاشرے میں بھی یہ نیکیاں پھیلانے والے ہیں۔برائیوں سے اپنے آپ کو بھی بچانے والے ہیں اور معاشرے کو بھی بچانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات پر حتی الوسع کوشش کرنے والے ہیں اور اپنی نسلوں کو بھی اسلام کی حقیقی تعلیم سے روشناس کرانے والے ہیں۔اگر یہ باتیں نہیں تو پھر اسلام دشمن یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ ہمیں یہ نہیں پتہ کہ تمہاری تعلیم کیا ہے۔ہم تو تمہارے عمل دیکھ کر تمہیں اور تمہارے دین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔پس ایک باغیرت احمدی کی طرح ہمیشہ اپنے کسی فعل اور حرکت سے احمدیت اور حقیقی اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش نہ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس درد کو ہمیشہ یادرکھیں کہ آپ نے فرمایا کہ ہماری طرف منسوب ہو کر پھر ہمیں بدنام نہ کریں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد سوم صفحہ 184 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس ہر احمدی کو ہمیشہ یہ سوچنا چاہئے کہ اس ملک میں آ کر مجھے اپنے حالات پہلے سے بہتر کرنے کا اور آزادی سے زندگی گزارنے کا موقع اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی وجہ سے دیا ہے۔اس لئے میں نے خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بنتے ہوئے اپنی زندگی اس نہج پر گزارنی ہے کہ جو جہاں مجھے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والی بنائے وہاں دشمنان اسلام کے منہ بند کرنے والی بھی بنائے۔امر بالمعروف میرا طرہ امتیاز ہو اور نہی عن المنکر میری پہچان ہو۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑا مقام عطا فرمایا ہے اور جو احمدی مسلمان ہیں انہوں نے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ہم اس مقام کو حاصل کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کی سرتوڑ کوشش کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے جو مقام دیا ہے وہ یہ ہے کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( آل عمران: 111 ) کہ تم وہ لوگ ہو جو انسانیت کی بھلائی کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔صرف اپنی بھلائی نہیں بلکہ دوسروں کی بھلائی کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔قطع نظر اس کے کہ کون کس مذہب کا ہے آج انسانیت کی بھلائی تمہارے ساتھ وابستہ ہے۔یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ یونہی نہیں مل گیا بلکہ یہ وجہ بتائی کہ تم نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو۔پس اگر اپنے اندر یہ نیکیاں ہوں گی۔آپس میں احمدی معاشرے میں بھی ان نیکیوں کا اظہار نظر آ رہا ہو گا جو خدا تعالیٰ نے ہمیں قرآن