خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 329 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 329

329 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جولائی 2009 منسوب ہوتا تھا اور یہ لوگ بہت عرصہ پہلے آپس کی لڑائیوں کی وجہ سے ہجرت کر کے بحرین چلے گئے تھے۔ان کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ بہت خوش ہوئے کہ دو بچھڑے بھائیوں کی نسلیں آپس میں مل رہی ہیں۔بڑے تپاک سے ان کا استقبال کیا۔ان کے سردار کو اپنے قریب بٹھایا اور بڑی محبت و شفقت سے اس سے پیش آئے اور انصار کو فر مایا کہ ان کی خوب مہمان نوازی کرنا کیونکہ انہیں تم سے ایک نسبت ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ لوگ بھی تمہاری طرح از خود مسلمان ہو کر آئے ہیں۔اگلے دن پھر اس وفد کے ارکان جب آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا کہ کیا تمہارے بھائیوں نے تمہاری مہمان نوازی اچھی طرح کی ہے۔ٹھیک طرح کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ہمارے بہترین بھائی ثابت ہوئے ہیں۔انہوں نے ہمارے لئے بہترین کھانے اور بہترین بستر کا انتظام کیا اور صبح ہوتے ہی ہمیں قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کی باتیں بتا ئیں۔( مسند احمد بن حنبل جلد 5 بقیہ حدیث وفد عبدالقیس “ حدیث نمبر 15644 عالم الكتب بيروت 1998ء) پس یہ نمونے تھے جو آپ کے صحابہ کے تھے۔انصار نے تو ہجرت کے وقت مہاجرین کے ساتھ بھی اخوت کا ایک مثالی نمونہ قائم کیا تھا اور اب تو آنحضرت مہ کی قوت قدسی نے ان کے اس عمل کو اور بھی صیقل کر دیا تھا۔پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب تمہارے پاس کسی قوم کا سردار یا معزز آدمی آئے تو اس کی حیثیت کے مطابق اس کی عزت اور تکریم کرو۔(ابن ماجہ۔ابواب الادب باب اذا ا تا کم کریم قوم فاکر موہ حدیث 3712) بے شک سرداروں کی اور معزز آدمیوں کی عزت و تکریم کا آپ نے حکم دیا لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے ہر مہمان چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم آپ اس کی عزت فرمایا کرتے تھے اور یہی حکم مسلمانوں کو دیا تھا۔بلکہ ایک دفعہ مصر قبیلے کے لوگ برے حالوں میں بغیر لباس کے نگے تلوار میں ٹانگی ہوئی تھیں آپ کے پاس پہنچے آپ ان کی حالت دیکھ کر بے چین ہو گئے اور فورآمدینہ کے لوگوں کو جمع کیا اور انہیں ان کے لئے کھانے اور خوراک ولباس کا انتظام کرنے کو کہا اور جب تک آپ کو تسلی نہیں ہو گئی کہ یہ سارا انتظام ہو گیا ہے۔آپ بے چین رہے اور اس کے بعد لکھا ہے کہ آپ کا چہرہ اس طرح چمک رہا تھا کہ جس طرح سونے کی ڈلی چمک رہی ہوتی ہے۔( صحیح مسلم کتاب الزکاة باب الحث على الصدقة ولو بشق تمرة حديث 2240) تو یہی حال اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کا تھا۔اخبار البدر 24 جولائی 1904 ء کی ایک رپورٹ میں لکھا ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گورداسپور کے ایک سفر پر تھے وہاں بھی جو دوست ملنے کے لئے آتے آپ ان کی ضروریات کا بہت خیال رکھتے۔لکھتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت حجتہ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مہمان نوازی کا رسول اللہ ﷺ کی طرح اعلیٰ اور زندہ نمونہ ہیں۔جن لوگوں کو کثرت سے آپ کی صحبت میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ کسی مہمان کو ( خواہ وہ سلسلہ میں داخل ہو یا نہ داخل ہو ) ذراسی بھی تکلیف