خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 328 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 328

328 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد هفتم تحفہ آتا تو آپ صفہ والوں کے پاس پہلے بھیجتے اور خود بھی کھاتے۔بہر حال حضور اللہ کا فرمان کہ میں ان کو بلا لاؤں مجھے بڑا نا گوار گزرا کہ ایک پیالہ دودھ ہے اور یہ اہل صفہ میں کس کس کے کام آئے گا۔میں اس کا زیادہ ضرورت مند تھا تا کہ پی کر کچھ تقویت حاصل کروں ، طاقت حاصل کروں۔پھر یہ بھی خیال آیا جب اہل صفہ آجا ئیں اور مجھے ہی حضور ریلی ان کو پلانے کے لئے فرما ئیں تو یہ اور بھی بُرا ہوگا پھر تو بالکل ختم ہو جائے گا کچھ بھی نہیں ملے گا۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے رسول کا فرمان تھا اس لئے آپ گئے اور ان کو بلا لائے۔اور جب سب آگئے اور اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔تو ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ ان کو باری باری پیالہ پکڑاتے جاؤ۔اور میں نے دل میں یہ خیال کیا کہ مجھے تو اب یہ نہیں ملتا۔بہر حال میں پیالہ لے کر ہر آدمی کو پکڑا تا گیا اور وہ پیتے گئے۔اور جب دوسرے تیسرے کے پاس پہنچا یہاں تک کہ آخر تک پہنچا میں نے پیالہ آنحضرت ﷺ کو دیا کہ سب اچھی طرح پی چکے ہیں۔آپ نے میری طرف دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا ابو ہریرہ ! میں نے کہا یا رسول اللہ فرمائیے۔آپ نے ارشاد فرمایا اب تو صرف ہم دونوں رہ گئے ہیں۔میں نے عرض کی حضور ٹھیک ہے۔اس پر آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ اور خوب پیو۔جب میں نے بس کیا تو فرمایا ابو ہریرہ اور پیو۔میں پھر پینے لگا چنانچہ جب میں پیالے سے منہ ہٹا تا آپ فرماتے ابو ہریرہ اور پیو۔اور جب میں اچھی طرح سیر ہو گیا تو عرض کیا جس ذات نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے اس کی قسم اب تو بالکل گنجائش نہیں۔چنانچہ میں نے پیالہ آپ کو دے دیا اور آپ نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور پھر بسم اللہ پڑھ کر دودھ نوش فرمایا۔( ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق باب 101/36 حدیث 2477) ان اصحاب صفہ کو آپ مہمان سمجھتے تھے اس لئے ان سب کو پہلے پلایا۔اگر آپ خود ہی پہلے پی لیتے تو یہ برکت تو پھر بھی قائم رہنی تھی۔لیکن مہمان نوازی کے تقاضے کے تحت آپ نے پہلے ان مہمانوں اور غریبوں کو پلایا۔ان لوگوں کا صلى الله اس طرح حضور کی مجلس میں انتظار میں بیٹھنا آنحضرت ﷺ پسند فرماتے تھے۔اس لئے ایک موقع پر آنحضرت یی نے حضرت ابو ہریرہ کے بھائی کو کہا کہ یہ لوگ سیکھنے کے لئے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔تم ان کے گھروں اور کاروبار کی نگرانی کیا کرو اور انتظام سنبھالا کرو۔پھر فتح مکہ کے بعد جب باہر سے وفود کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ ان کی بڑی عزت فرماتے تھے۔حضرت بلال جو آپ کے ذاتی امور اور خرچ وغیرہ کا حساب رکھتے تھے انہیں فرماتے تھے کہ ان کی خوب مہمان نوازی کرو اور ان کے لئے تحفوں وغیرہ کا انتظام کرو۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد اول صفحہ 156 "وفد تجیب“ داراحیاء التراث العربی بیروت 1996ء) اسی طرح ایک وفد بحرین سے آیا۔یہ ربیعہ قبلے کا وفد تھا اور یہ قبیلہ آنحضرت ﷺ کے جد امجد کے بھائی سے