خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 17 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 17

17 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 9 جنوری 2009 باقی دنیا اگر کچھ کر بھی رہی ہے تو بہت معمولی۔اور ہر ایک کھیل کو د اور نفس کی خواہشات کی تکمیل میں لگا ہوا ہے۔بہت ساری بدعات اور رسومات نے مسلمانوں میں راہ پالی ہے۔جو دنیا وی رسومات ہیں شادی بیاہ ہیں، ان پر دکھاوے کے لئے بے انتہا خرچ کیا جاتا ہے۔اس بارہ میں میں جماعت کو توجہ دلانی چاہتا ہوں۔بعض اوقات احمدیوں کی طرف سے احمدیوں کے بارے میں بھی شکایات آجاتی ہیں۔اس زمانہ کے امام کو مان کر اگر ہم بھی دوسروں کی دیکھا دیکھی اپنے ماحول کے پیچھے چلتے رہے اور اس مقصد کو بھول گئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کا مقصد ہے تو پھر ہم میں سے وہ لوگ جو یہ مقصد بھول رہے ہیں انہیں لوگوں میں شمار ہوں گے جن کے بارے میں خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل کو د اور نفس کی خواہشات پورا کرنے کا ذریعہ ہے۔اور یہ ایسا ذریعہ ہے جو انسان کی پیدائش کے اعلیٰ مقصد کو بھلا دے۔اور اگر زمانے کے امام کو ماننے کے بعد بھی ہم میں مال اور اولاد اور دنیا داری کا فخر رہے اور عبادتوں اور قربانیوں کو ہم بھول جائیں تو اللہ تعالیٰ نے جو اجرٌ كَرِيمٌ فرمایا ہے ، اس کے حقدار بھی نہیں ٹھہریں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مال تو تمہیں میں نے دے دیا اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ مال اور دولت جمع کر کے صرف اپنی بڑائی کا اظہار کرتے ہو یا واقعتا اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہوئے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہو۔اگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو گے تو اجر عظیم پاؤ گے، اجر کریم پاؤ گے، ایک معزز اجر پاؤ گے۔اگر نہیں تو یہ دنیاوی مال ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں ہے۔یہ تو اس فصل کی طرح ہے جو سر سبز ہو، لہلہاتی ہوئی ہو تو بہت اچھی لگتی ہے اور اس فصل کو دیکھ کر اس کا مالک اس پر بہت سی امیدیں رکھتا ہے۔مستقبل کی خواہشات پوری کرنے کے منصوبے بنارہا ہوتا ہے لیکن جب وہ پکتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے طوفان آئے ، بارش آئے ، آندھی آئے اسے بکھیر دیتا ہے اور مالک کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آتا۔پس اس مثال سے ایک مومن کو بھی سمجھایا کہ تم دنیاوی چیزوں کے پیچھے نہ پڑو جن کا انجام مایوسی کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے اور جو خدا کو یاد نہیں رکھتے ، بالکل بھول گئے ، ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے آخرت کا عذاب اس کے علاوہ ہے ذکر کیا ہے۔پس مومن کو کہا کہ تمہارا کام خدا تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضا کے حصول کی کوشش ہونا چاہئے اور یہی ایک حقیقی مومن کی نشانی ہے۔ورنہ یہ دنیا جتنی بھی خوبصورت لگے اس کے سازوسامان ، اس کا مال جتنا بھی دل کو لبھائیں انجام اس کا دھوکہ ہی ہے، ناکامی ہی ہے۔پھر اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سَابِقُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِّنَ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ۔ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللَّهِ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (الحدید :22) کہ اپنے رب کی مغفرت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھو اور اس جنت کی طرف بھی جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کی طرح ہے۔جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں۔یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے اسے دیتا ہے اور اللہ عظیم فضل والا ہے۔