خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 16
16 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم دین کی اشاعت کے لئے مالی قربانی کی جارہی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قدر پذیرائی حاصل کرنے والی ہوتی ہے کہ اس کے بارہ میں انسان سوچ بھی نہیں سکتا، اس کا احاطہ نہیں کر سکتا بشرطیکہ وہ خالصتنا اللہ تعالیٰ کے لئے ہو اور اس زمانے میں جب دنیا، دنیاوی اور مادی خواہشات کے پیچھے لگی ہوئی ہے، قربانی کرنے والے یقینا اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کر کے اللہ تعالیٰ سے بہترین شکل میں اس قرض کے بدلے وصول کرنے والے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو صرف پرانے قصے ہیں، یا کہانیاں ہیں یا پرانے قصوں میں واقعات ہوا کرتے تھے یا ہم نے قرآن شریف میں پڑھ لیا ہے، اس کا تجربہ نہیں ہے بلکہ اس زمانے میں بھی ہم میں سے کئی ہیں جو اس بات کو مشاہدہ کرتے آئے ہیں اور مشاہدہ کر رہے ہیں۔پس یہ بھی اُن انعاموں میں سے ایک انعام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کے بعد ایک احمدی کو ملا۔اور اس بات پر احمدی اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے اور یہ ایک احمدی کی شکر گزاری ہی ہے کہ باوجود نا مساعد حالات کے ہر سال احمدی کی قربانی کی مثالیں روشن تر ہوتی چلی جا رہی ہیں۔اس سال ساری دنیا میں جو اکنا مک کرائسز (Economic Crises) ہوا اس کے با وجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالی قربانیوں میں احمدی پیچھے نہیں ہے۔ایک احمدی یہ پرواہ نہیں کرتا کہ میرا گزارا کس طرح ہو گا۔فکر ہے تو یہ کہ ہمارے چندے کا وعدہ پورا ہو جائے۔جبکہ دوسروں کا کیا حال ہے اس کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے اسی سورۃ حدید میں ہی ایک اور اگلی آیت میں کھینچا ہے اور ساتھ ہی اس میں مومنوں کو یہ بھی وارنگ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں کبھی سستی نہ دکھانا۔چاہے وہ عبادات ہیں یا مالی قربانیاں ہیں یا دوسرے فرائض ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر فرض کئے گئے ہیں۔کیونکہ حقیقی زندگی وہی ہے جو آخرت کی زندگی ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی زندگی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَياةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهُوٌ وَ زِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا۔وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانٌ۔وَمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ (الحدید : 21 ) کہ جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل کود اور نفس کی خواہشات کو پورا کرنے کا ایسا ذریعہ ہے جو اعلیٰ مقصد سے غافل کر دے اور سج دھج اور باہم ایک دوسرے پر فخر کرنے اور اموال اور اولاد میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا یہ زندگی اُس بارش کی مثال کی طرح ہے جس کی روئیدگی کفار کے دلوں کو لبھاتی ہے۔پس وہ تیزی سے بڑھتی ہے اور پھر تو اُس فصل کو سبز ہوتا ہوا دیکھتا ہے۔پھر وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب مقدر ہے۔نیز اللہ کی طرف سے مغفرت اور رضوان بھی ہے جبکہ دنیا کی زندگی تو محض دھوکہ کا ایک عارضی سامان ہے۔پس آج ہم دنیا پر نظر پھیریں تو اسلام کی تعلیم کے مطابق حقیقی رنگ میں اگر کوئی جماعت من الحیث الجماعت خرچ کر رہی ہے تو جماعت احمدیہ ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرتی ہے یا قربانیاں دیتی ہے۔