خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 18

18 خطبہ جمعہ فرموده 9 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پس مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی مغفرت کی تلاش میں رہتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں اس جنت کو حاصل کرنے والے اور اس کے وارث ٹھہرتے ہیں جو اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی صورت میں نظر آتی ہے اور اگلے جہان میں تو اللہ تعالیٰ نے یہ ایک مومن کے لئے مقدر کی ہے جو خالص ہو کر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہر کام اور فعل کرتا ہے۔مومن ایک ایسی جنت کا وارث بنتا ہے جو زمینی بھی ہے اور آسمانی بھی۔اس دنیا میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کر کے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش ہوتے دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور اگلے جہان میں بھی خوش ہوگا۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔مجھے بیسیوں خطوط آتے ہیں جو اپنی مالی قربانی کے ذکر کے بعد یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اس قربانی کے بعد سکینت پیدا کی۔کس طرح ان کے مال میں اللہ تعالیٰ نے برکت عطا فرمائی۔کس طرح ان کی اولاد کی طرف سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔تو یہ اس دنیا کی جنت ہی ہے جو ایک مومن کو ملتی ہے۔جس کے نظارے ایک مومن دیکھتا ہے اور پھر جب اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے مومن اس دنیا میں دیکھتا ہے تو آخرت کی جنت پر یقین مزید مضبوط ہوتا ہے تبھی تو گزشتہ دنوں مجھے کسی جگہ کے سیکرٹری مال نے لکھا کہ ایک صاحب 2 جنوری کو میرے پاس آئے کہ آج وقف جدید کے اوپر خطبہ آئے گا تو یہ میرا وعدہ ہے گزشتہ سال سے اتنا بڑھا کر پیش کر رہا ہوں اور پہلی رسید تم میری کاٹنا۔تو یہ شوق بھی اسی لئے ہے کہ ان کو یقین ہے کہ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ کی رضا ملتی ہے۔تو یہ جو ایمان ہے، یقین ہے یہ اس سے مضبوط ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگلے جہان میں جو دے گا اس کا تو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔یہاں یہ بات کہہ کر کہ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ یہ نکتہ بھی بیان فرما دیا کہ مومن کے لئے جنت کی وسعت زمین و آسمان کی وسعت جتنی ہے۔یعنی اس کی کوئی حد اور انتہا نہیں ہے اور جنت کیا ہے۔پہلی آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔ایک دفعہ ایک صحابی نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ جنت اگر زمین و آسمان تک پھیلی ہوئی ہے۔پوری کائنات کو ہی اس نے گھیرا ہوا ہے تو پھر دوزخ کہاں ہے؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب دن ہوتا ہے تو رات کہاں ہوتی ہے۔( مسنداحمد بن حنبل جلد 5 حدیث التعوفى عن النبی ہے صفحہ 381 حدیث 15740 عالم الكتب بيروت 1998ء) یعنی جنت اور دوزخ کوئی دو جگہیں نہیں ہیں بلکہ دو حالتیں ہیں۔خدا کو بھولنے والوں کو جہاں دوزخ نظر آئے گی وہیں نیک اعمال والے جنت کے نظارے کر رہے ہوں گے۔رُخ اور زاویہ بدل جانے سے اس کی حالت مختلف ہو جائے گی۔جس طرح آج کل بعض تصویر میں ہوتی ہیں ذرا سا اینگل بدلتے ہیں تو ڈائمینشن چینج ہو جاتی ہے۔پس ایک مومن خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول پر نظر رکھتے ہوئے جہاں جنت کا وارث بنتا ہے وہاں غیر مومن اور