خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 15

15 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم دوریاں نظر آ رہی ہیں تو درود بھیجیں اور بہت درود بھیجیں۔کیونکہ ہم زمانے کے اس امام کو ماننے والے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے براہ راست آنحضرت علیہ کی آل میں شامل فرمایا ہے۔مسلمانوں کے جو اپنے ذاتی مفاد ہیں ان کا حال تو ہم آج کل دیکھ ہی رہے ہیں۔جبکہ فلسطین پر اسرائیل کی ظالمانہ بمباری کے باجود مسلمان ممالک نے احتجاجا بھی پر اثر آواز نہیں اٹھائی۔اکا دُکا آواز میں اٹھتی ہیں اور وہ بھی نرم زبان میں، بلکہ ملکی آواز میں۔ان کے مقابلہ میں یہاں مغرب میں بعض عیسائی تنظیموں نے بھی اور اشخاص نے بھی زیادہ زور سے اسرائیل کے رد عمل پر اظہار کیا ہے۔اسرائیل نے جو بمبارمنٹ کی ہے اور جو مستقل کر رہے ہیں اور جو جنگ جاری ہے ، اس پر ان کا رد عمل مسلمان ملکوں کی نسبت زیادہ پُر زور ہے۔پس جب عمومی طور پر یہ مسلمان ممالک بے حس ہو گئے ہیں ہمارا فرض بنتا ہے کہ درود اور دعاؤں سے مسلمانوں کی مدد کریں۔پس میں دوبارہ یہی کہتا ہوں کہ دعاؤں پر بہت زیادہ زور دیں کیونکہ ہم جو مسیح محمد ٹی کے ماننے والے ہیں، ہمارا ہتھیار اور سب سے بڑا ہتھیار دعا ہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بارہ میں فرمایا ہے کہ اسی سے انشاء اللہ تعالیٰ اسلام اور احمدیت کی فتح ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔جیسا کہ میں نے کہا، آج کا جو دوسرا مضمون ہے اب اس طرف آتا ہوں۔سب جانتے ہیں کہ جنوری کے پہلے یا دوسرے جمعہ پر وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کیا جاتا ہے اور گزشتہ سال کی قربانیوں کا مختصر ذکر بھی پیش کیا جاتا ہے۔لیکن اس ضمن میں رپورٹ پیش کرنے سے پہلے اس بارہ میں کچھ عرض کروں گا ایک مومن کا کیا کام ہے، کس طرح اس کو قربانیاں کرنی چاہئیں، انفاق فی سبیل اللہ کیا ہے، ہمارے عمل کیا ہونے چاہئیں؟ قرآن کریم میں سورۃ حدید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ الْمُصَّدِقِينَ وَالْمُصَّدِقَاتِ وَاقْرِضُوا الله قَرْضًا حَسَنًا يُضْعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ (الحدید : 19) یقینا صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے مال میں اللہ کو قرضہ حسنہ دیا ان کا مال ان کے لئے بڑھایا جائے گا اور انہیں عزت والا بدلہ دیا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی ایک جگہ وضاحت کی ہے کہ خدا تعالیٰ کو تو تمہارے روپے پیسے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس نے خود ہی اپنے پر فرض کر لیا ہے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو تو وہ اس کو قرضہ حسنہ سمجھ کر لوٹائے گا۔یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے پیار کا اظہار ہے کہ باوجود غنی ہونے کے جس کو کسی انسان کے پیسے کی کوئی احتیاج یا حاجت نہیں ہے لیکن جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ مجھ پر قرض ہے اور میں اسے لوٹاؤں گا۔ایسے قرض لینے والوں کی طرح نہیں جو قرض تو لے لیتے ہیں اور واپس کرنا بھول جاتے ہیں۔اللہ کہتا ہے کہ میں وہ لوٹاؤں گا۔پس مالی قربانی چاہے وہ کسی بھی رنگ میں ہو، خدا تعالیٰ اس کی قدر کرتا ہے۔جب