خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 506 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 506

506 خطبہ جمعہ فرموده 12 دسمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم کی مجالس بھی میری باتیں سن رہی ہوں گی۔اللہ کرے انہیں بھی یہ باتیں سن کر جوش پیدا ہو اور مسابقت کی روح پیدا ہو۔جمعہ کا خطبہ تو اکثر نے سن ہی لیا ہے۔وہاں سے پہلی دفعہ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے یہ خطبہ نشر ہوا۔اس جمعہ پر ارد گرد کے احمدی جو تھے ہزاروں کی تعداد میں سارے آئے ہوئے تھے۔وہاں ایک ہوٹل میں جماعت نے ایک ریسیپشن کا انتظام بھی کیا ہوا تھا۔وہاں کافی تعداد میں سرکاری افسران اور پڑھے لکھے لوگ آئے ہوئے تھے۔شہر کے میئر بھی آئے ہوئے تھے۔انہوں نے جماعت سے متعلق اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کے متعلق بڑے اچھے انداز میں اظہار کیا۔کچھ تو خیر رسمی اظہار کرتے ہی ہیں لیکن اس کے بعد جب بعض مجھ سے ملے ہیں تو وہ خاص طور پر اس شدت سے باتوں کا اظہار کر رہے تھے کہ لگ رہا تھا کہ دل سے ان کو باتیں پسند آئی ہیں۔اس کو اخباروں نے بھی اپنی خبروں میں بڑی اچھی طرح شائع کیا۔ایسے فنکشن کا اس بات کے علاوہ کہ بڑے پڑھے لکھے طبقے میں اسلام کی خوبصورت تعلیم صحیح رنگ میں پہنچ جاتی ہے، یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ اخبار اچھی کوریج دے کر بہت وسیع طبقے تک اسلام کی خوبصورت تعلیم جماعت احمدیہ کے حوالے سے پہنچا دیتے ہیں اور حضرت مسیح موعو دعلیہ الصلوۃ والسلام کی آمد اور بعثت کا بھی دنیا کو علم ہو جاتا ہے۔کالیکٹ میں ملیالم زبان کے سب سے بڑے اخبار ما تر و بھومی کے چیف ایڈیٹر گوپال کرشنن ، ہندو تھے، انہوں نے میرا انٹر ویولیا اور اپنے اخبار میں شائع بھی کیا۔اس اخبار کے پڑھنے والوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے زائد ہے۔مختلف سوال مذہب کے حوالے سے بھی اور دنیا کے حوالے سے بھی کرتے رہے اور بہر حال اچھا اثر لے کر گئے۔یہ لوگ آزاد خیال تو بے شک بنتے ہیں لیکن اچھی چیز کو صرف اپنے تک محدود رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ صرف ہمارے میں اچھائیاں ہیں۔یہ بڑے پڑھے لکھے ہیں۔قرآن کا بھی انہوں نے ترجمہ پڑھا ہوا ہے اور آنحضرت ماہ کے اُسوہ کے متعلق بھی ہمارے ایک کالم لکھنے والے ہیں جو ان کے ساتھ اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور یہ اس کو پڑھتے بھی ہیں۔لیکن میری ساری باتیں سننے کے بعد باوجود اس کے کہ وہ بعض دفعہ تعریف کر رہے ہوں۔جب ہماری باتیں ختم ہوئیں تو آخر پر مجھے بڑے ہلکے پھلکے انداز میں کہنے لگے کہ آپ کی باتوں سے لگتا ہے کہ آپ گاندھی جی سے بہت متاثر ہیں۔تو میں نے انہیں فوراً جواب دیا کہ میں بالکل گاندھی جی سے متاثر نہیں ہوں ، میں تو قرآن کریم کی تعلیم سے متاثر ہوں ، اس تعلیم سے جو آنحضرت ﷺ پر اتری ہے اور اس کی روشنی میں میں نے آپ سے ساری باتیں کی ہیں۔تو بعض لوگوں کو ہر اچھی بات کا کریڈٹ اپنے پر لینے کی عادت ہوتی ہے۔بہر حال اچھے خوشگوار ماحول میں ان سے باتیں ہوئیں اور یہ ان کی شرافت ہے کہ ساری باتیں انہوں نے لکھ بھی دیں۔پھر کالیکٹ سے دوسرے شہر کو چین (Cochine) گئے۔یہاں بھی اچھی جماعت ہے۔ارد گرد کی چھوٹی جماعتیں بھی وہاں جمع ہوگئی تھیں۔انہوں نے یہاں نئی مسجد بنائی ہے۔اس کا بھی افتتاح تھا اور اسی طرح تین چار اور