خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 505 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 505

خطبات مسرور جلد ششم 505 خطبہ جمعہ فرمودہ 12 دسمبر 2008 کرنے والے تبلیغ کرنے والے خود بھی اپنے نفس کی خواہشات سے آزاد ہوکر تبلیغ نہیں کرتے۔جب تک خود بھی اس مثال پر قائم نہ ہوں کہ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (ابراہیم : 25) کہ جن کی ایمان کی جڑیں مضبوط ہیں اور جن کی شاخیں آسمان کی طرف جارہی ہیں۔جنہیں دنیا کا کوئی خوف نہیں ہے۔جن کے کام دکھانے کے لئے نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہیں۔اگر اس طرح اور ایسے داعیان نے کوشش کی ہوتی یا اس طرح کے داعیان ہوں تو تبھی نئے شامل ہونے والے بھی جماعتی نظام میں صحیح طرح پروئے جاتے ہیں اور جماعتی نظام نئے آنے والوں کو حقیقی رنگ میں سنبھالتا ہے اور پھر آگے ان سے کام لیتا ہے۔اگر یہ نہ ہو تو پھر وہی صورتحال ہے جس کا میں کئی دفعہ ذکر چکا ہوں کہ بعض بیعتوں کا پتہ ہی نہیں لگتا۔بہر حال یہ ذکر میں نے ضمنا کر دیا۔اس مضمون پر کسی اور وقت بات کروں گا۔یہ مثال مجھے جنوبی ہندوستان میں نظر آئی کہ یہ لوگ نئے شامل ہو کر بھی قربانیوں میں شامل ہونے والے ہیں اور مثالی رنگ میں شامل ہونے والے ہیں۔قربانیوں میں مالی قربانیاں بھی شامل ہیں۔اس مسجد میں جس کا میں نے ذکر کیا کہ معین شہر کے دل میں ہے اور یہ بڑی قیمتی جگہ ہے اس کے ساتھ ایک بہت بڑا پلاٹ کئی کروڑ کا فروخت ہو رہا تھا تو وہاں کی جماعت نے پہلے مرکز سے درخواست کی۔میں نے کہا نہیں اپنے وسائل سے خریدیں۔ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ میرے جانے سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان میں جوش اور جرات پیدا ہوئی اور پختہ ارادہ بھی کر لیا اور کافی رقم جمع بھی ہوگئی۔پہلے تو یہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے لئے مشکل ہوگا خرید نالیکن اب انہوں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ ہم خریدیں گے اور اپنے وسائل سے خریدیں گے بلکہ ایک احمدی جن کا اس پلاٹ میں بہت بڑا حصہ ہے انہوں نے کہا کہ میں اس کی قیمت ہی نہیں لوں گا۔اسی طرح اوروں نے بھی مالی قربانی کا وعدہ کیا ہے۔یہ وہیں کھڑے کھڑے جب میں اس پلاٹ کی قیمت کی باتیں ان سے کر رہا تھا، وہاں کی جماعت کے جو مخیر حضرات ہیں انہوں نے خریدنے کا وعدہ کر لیا۔تو قربانی کے لحاظ سے بھی یہ لوگ بہت بڑھنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ نئے احمدیوں کو بھی اور پرانے احمدیوں کو بھی توفیق دے کہ وہ حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانے والے بھی ہوں اور اس خوبصورت تعلیم پر عمل کرنے والے بھی ہوں اور حقیقی قربانی کی روح کو سمجھنے والے بھی ہوں۔کالیکٹ میں لجنہ کا ایک چھوٹا سا اجتماع بھی ہو گیا۔کم از کم 4 ہزار کے قریب ناصرات اور خواتین تھیں۔UK اجتماع سے تو زیادہ تعدا دلگ رہی تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کا بہت اچھا اثر ہوا۔ہر عورت اور ہر بچی کے چہرے پر کام کرنے کا ایک نیا عزم اور ایک نیا ولولہ تھا۔مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ جس طرح انہوں نے اظہار کیا ہے وہ اپنے پروگراموں میں کئی گنا ترقی کریں گی۔ویسے بھی کیرالہ کی لجنہ بھارت کی صف اول کی لجنات کی تنظیم میں ہے۔لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ یہ لوگ چھلانگیں مارتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔ہندوستان کی باقی لجنہ