خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 507
خطبات مسرور جلد ششم 507 خطبہ جمعہ فرموده 12 دسمبر 2008 قریب کی مساجد بھی ہیں۔وہاں تو نہیں جا سکے لیکن وہ ایک جگہ اکٹھے جمع ہو گئے اور پھر وہیں مساجد کا نام لے کر ایک رسمی افتتاح ہو گیا۔اس جگہ بھی شہر میں جو ہماری نئی مسجد بنی ہے ، وہ بڑے آباد علاقے میں ہے اور اردگرد ہمسائیگی میں عیسائی اور ہندو ہیں۔انہوں نے بڑے کھلے دل کا مظاہرہ کیا۔جب یہ پتہ چلا کہ میں مسجد کے افتتاح کے لئے آؤں گا تو ان لوگوں نے بھی اپنے گھروں کی چاردیواری پر اندر باہر رنگ و روغن کیا تا کہ علاقہ صاف ستھرا لگے۔جیسا کہ میں نے کہا یہ شہر کے اندر ہے لیکن یہاں بھی انتظامات اچھے تھے اور لوگوں کا تعاون بڑا اچھا تھا کہ کوئی آنے جانے میں دقت نہیں ہوئی۔میں نے ذکر کیا ہے کہ چار اور مساجد بنائی تھیں لیکن وہاں جا نہیں سکا جب لوگوں کو مجبوریاں بتائیں تو باوجود خواہش کے انہوں نے اس کو سمجھا اور بڑی شرح صدر کے ساتھ بغیر کسی انقباض کے فور التسلیم کر لیا۔گو کچھ دیر کے لئے ان لوگوں کے چہرے ذرا مرجھا گئے تھے لیکن پھر بھی انہوں نے یہی کہا کہ جو آپ کا فیصلہ ہے اسی میں برکت ہے۔یہاں بھی بڑے اخلاص و وفا کا تعلق رکھنے والی جماعتیں ہیں۔کو چین اچھا بڑا شہر ہے۔کو چین میں بھی ایک نیشنل اخبار ، The Hindu ہے ، اس کے چیف رپورٹر نے بھی انٹرویو لیا۔یہ اخبار ان کے مطابق ہندوستان کے تمام بڑے شہروں سے بیک وقت شائع ہوتا ہے اور اس کی سرکولیشن بھی کروڑوں میں ہے۔پھر انڈین ایکسپریس ہے۔یہ بھی تمام بڑے شہروں سے شائع ہوتا ہے۔اس کی سرکولیشن بھی کروڑوں میں ہے۔اس کے بھی سینئر نمائندے نے خواہش کا اظہار کر کے انٹرویو لیا تو ان سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے اور احمدیت کے حوالے سے احمدیوں اور دوسرے مسلمانوں میں فرق اور مختلف موضوعات پر اور اسلام کی امن کی تعلیم پر گفتگو ہوئی۔وہ آئے تو چند منٹ کے انٹرویو کے لئے تھے لیکن تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک یہ اخباری نمائندے باتیں کرتے رہے اور سوال پوچھتے رہے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس ذریعہ سے بھی اس علاقہ میں احمدیت کا تعارف بڑے وسیع طبقہ میں ہو گیا ہے۔ریسیپشن پر دونوں جگہ بعض MPS بھی تھے اور دوسرا پڑھا لکھا طبقہ بھی تھا۔پروفیسر بھی تھے انجینئر بھی تھے۔جیسا کہ میں نے کہا یہاں بھی ریسیپشن تھی۔یہاں کے ایک ایم پی مہمان خصوصی تھے۔مجھ سے اکثر نے یہی اظہار کیا کہ جس طرح تم لوگ اسلام کی تعلیم بیان کرتے ہو تم لوگوں سے ہی توقع رکھی جاسکتی ہے کہ دنیا میں امن قائم کر سکو۔بلکہ وہاں ایک ریسرچ سکالر ہیں، انہوں نے اپنی تجاویز بھی لکھ کے دی تھیں۔بہر حال ان کا تو اپنا ایک انداز ہے لیکن خلاصہ یہی تھا کہ دنیا میں نیکی قائم کرنے کے لئے تم لوگ ہی ہو جو کچھ کر سکتے ہو۔عمومی طور پر بہر حال بڑا اچھا اور باشمر دورہ تھا۔احمدیوں کو تربیتی لحاظ سے بڑا فائدہ ہوا۔بچوں بڑوں اور سب کا جماعت سے اخلاص کا تعلق مضبوط ہوا۔اب جو خطوط کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس دورے نے وہاں جماعت میں ایک نئی روح پھونکی ہے اور احمدیت اور اسلام کے سلسلہ میں تو میں بتا ہی چکا ہوں کہ کس طرح کروڑوں تک پیغام پہنچا جو عام حالات میں نہیں پہنچ سکتا۔تو دورے سے تبلیغ کے نئے راستے بھی کھلتے ہیں۔