خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 495
خطبات مسرور جلد ششم 495 خطبہ جمعہ فرموده 5 دسمبر 2008 کے اس خاص موقع پر نہ ہونے یا بعض روکوں کے بارے میں پہلے سے اطلاع دے دیتا ہے۔لیکن انسان پھر بھی اپنے اجتہاد کی وجہ سے اس کو کرنے پر اصرار کرتا ہے اور نتیجہ پھر وہ کام اس خواہش کے مطابق نہیں ہوتا جو مومن چاہ رہا ہوتا ہے اور کام بھی نیک ہوتا ہے۔اور پھر بعد کے حالات اس حقیقت کو کھول دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے اور اسی میں برکت ہے اور اللہ تعالیٰ فی الحال نہیں چاہتا کہ ایسے حالات پیدا ہوں جس میں یہ کام ہو۔اللہ تعالیٰ نے اس اصولی بات کی طرف کہ تم بعض کاموں کو اپنے لئے بہتر اور خیر کا باعث سمجھتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس میں تمہارے لئے خیر نہیں ہوتی یا اس میں ایک عارضی روک ہوتی ہے۔قرآن کریم نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ وَعَسَى اَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ک ممکن ہے تم کسی چیز کونا پسند کرتے ہو اور وہ تمہارے لئے بہتر ہو۔وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ اور ممکن ہے ایک چیز تم پسند کرتے ہو اور وہ تمہارے لئے شر انگیز ہو۔اور پھر فرمایا وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (البقرة: 217) کہ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔اب یہ اصولی بات ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتادیا کہ انسان کا علم چونکہ محدود ہے۔بعض دفعہ وہ ایسی چیز کا مطالبہ کر رہا ہوتا ہے جو اسے اچھی بھی لگ رہی ہوتی ہے اور ہوتی بھی حقیقتا اچھی ہے۔اس میں اس کو اپنے لئے فائدے بھی نظر آ رہے ہوتے ہیں۔اس کے حصول کے لئے اس کے دل کی شدید خواہش ہوتی ہے جبکہ وہ یہ برداشت نہیں کرتا کہ کسی بھی طرح وہ اپنی خواہش کی تکمیل یا اس کام کے ہونے سے محروم رہ جائے۔لیکن نہیں جانتا کہ اس کام کے ہونے سے اس کو نقصان بھی ہوسکتا ہے یا اس وقت کے لئے اتنا فائدہ نہیں جتنا بعد میں ہوسکتا ہے۔جو جذ بہ ایک انسان کا کسی کام کے ہونے کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے وہ شدت پسندیدگی یا نا پسندیدگی ہے۔وہ آگے سے آگے بڑھنے کی خواہش ہے۔وہ اچھے سے اچھا حاصل کرنے کی خواہش ہے۔اگر یہ عام حالات میں کسی مخالف کو نیچا دکھانے کے لئے ہے تو تب بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کام ہو جائے تاکہ میرا ہاتھ مخالف کے اوپر رہے۔اور کیونکہ انسان کا علم محدود ہوتا ہے اس لئے دونوں طرح کے جذبات یعنی خواہش کی تکمیل اور مخالف کو فوری طور پر نا کامی کا منہ دکھانے کے فائدے اور مضرات کو سمجھ نہیں سکتا اور جب انسان ضد کرتا ہے تو اس کوشش میں بجائے فائدے کے بعض اوقات اپنا نقصان کر الیتا ہے۔اپنے تمام وسائل اور سوچیں بروئے کارلانے کے بعد پھر ناکامی ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک مومن کا کام ہے کہ کسی خواہش کی تکمیل میں اپنی پسند کو دخل نہ دے۔بلکہ خاص طور پر جو دینی معاملات ہیں ان کے لئے تو بہت اہم ہے اور عام معاملات میں بھی کہ جو عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ خدا ہے جو سیدھے راستے پر چلانے والا خدا ہے، جس نے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحہ : 6) کی دعا سکھائی ہے اس سے مدد مانگیں۔وہ خدا جو مجیب ہے، دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے، جو دعاؤں کو سنتا ہے اس کے آگے جھکے کہ اے اللہ ! تو ہی ہر ظاہری اور چھپے ہوئے کا کامل علم رکھنے والا ہے۔تو مجھے سیدھے راستے پر چلا۔میری دعاسن اور مجھے