خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 494
خطبات مسرور جلد ششم 494 خطبه جمعه فرموده 5 دسمبر 2008 تعمیل کرتا ہے۔اور یہ کبھی نہیں ہوا اور نہ ہو گا کہ خدا تعالیٰ کا سچافرمانبردار ہو، وہ یا اس کی اولادتباہ و برباد ہو جاوے۔دنیا اُن لوگوں کی ہی برباد ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں اور دنیا پر جھکتے ہیں۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہر امر کی طناب اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔اُس کے بغیر کوئی مقدمہ فتح نہیں ہوسکتا۔کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی اور کسی قسم کی آسائش اور راحت میسر نہیں آ سکتی۔دولت ہو سکتی ہے مگر یہ کون کہہ سکتا ہے کہ مرنے کے بعد یہ بیوی بچوں کے کام ضرور آئے گی۔پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ مخفی ہے مگر وہ اپنی قدرتوں سے پہچانا جاتا ہے۔دعا کے ذریعہ سے اس کی ہستی کا پتہ لگتا ہے۔کوئی بادشاہ یا شہنشاہ کہلائے ہر شخص پر ضرور ایسے مشکلات پڑتے ہیں جن میں انسان بالکل عاجز رہ جاتا ہے اور نہیں جانتا اب کیا کرنا چاہئے۔اس وقت دعا کے ذریعہ سے مشکلات دور ہوتے ہیں۔پس یہ فہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اپنی جماعت میں پیدا فرمایا کہ ہر حالت میں خدا تعالیٰ کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے وہی ہے جو تمام مشکلات کو دور کرنے والا ہے۔وہی ہے جو اپنے بندوں کی صحیح راہنمائی کرنے والا ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ اکثریت اس بات کا ادراک رکھتی ہے اور مشکلات میں اور ہر ضرورت میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتی ہے۔ہر مومن کا کام اور اس کی پیدائش کا مقصد ہی خدا تعالیٰ کی عبادت ہے لیکن خاص حالات میں زیادہ توجہ پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل بھی خاص اس وجہ سے ہوتا ہے کہ عام حالات میں بھی مومن خدا تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دینے والا ہوتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا مومن کی بھی خواہشات ہوتی ہیں لیکن وہ ان کو پورا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے اور اس کو جھکنا چاہئے۔کیونکہ اسے پتہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہی ہے جو میری خواہشات کو پورا کرنے والا ہے۔ہر کام میں خدا تعالیٰ کی رضا میرا مقصود زندگی ہے۔یہ ایک مومن کی سوچ ہوتی ہے۔ایک مومن کو اس بات کا ادراک ہے کہ چاہے وہ ذاتی کام ہو جس کا تعلق روز مرہ کے معاملات سے ہے یا کاروباری معاملات سے ہے یا دینی اور جماعتی حالات ہیں ہر کام کرنے سے پہلے ایک مومن جسے خدا تعالیٰ پر کامل ایمان ہے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ اس کام میں برکت ڈالے اور اس کے نیک نتائج پیدا فرمائے۔بعض دفعہ ایک انسان ایک کام کو اچھا سمجھ رہا ہوتا ہے اور ہوتا بھی وہ نیک کام ہی ہے، سمجھتا ہے کہ اس کے اچھے نتائج نکلیں گے۔کسی خواہش کی تکمیل کے لئے کوشش بھی کرتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر وہ بہتر نہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی بھلائی کی خاطر اس میں وقتی یا مستقل روک ڈال دیتا ہے۔بعض اوقات ایک مومن کسی کام میں ہاتھ ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو یا اس کے قریبیوں کو یا اگر جماعتی معاملہ ہے تو جماعت میں بہت سارے افراد کو اس کام