خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 496 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 496

خطبات مسرور جلد ششم 496 خطبہ جمعہ فرموده 5 دسمبر 2008 اپنی جناب سے جو تیرے نزدیک بہترین ہے اور جس طرح تو چاہتا ہے اس طرح عطا کر۔تو جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ ایک مومن کو دُعا کے ذریعہ سے ہر کام میں خدا تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہئے اور جب اس طرح مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ راستہ بھی دکھا دیتا ہے۔لیکن بعض دفعہ دُعا کرنے کے باوجود اور بعض اشاروں کے باوجود جیسا کہ میں نے کہا اجتہادی غلطی کر جاتا ہے اور بعض اور اشاروں پر محمول کرتے ہوئے کہ اس میں کامیابی ہے لیکن وہ اشارے کسی اور مقصد کے لئے ہوتے ہیں یاکسی اور وقت کے لئے ہوتے ہیں، اُن کو دیکھتے ہوئے کام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں کو نقصان سے بچانا چاہتا ہے ان کی غلطیوں کے باوجود پھر ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے، بعض ایسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کر رہے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ نہیں ہے۔باوجود تمہاری شدید خواہش کے خدا تعالیٰ نے اس کام کی تکمیل یا اس کو کرنا کسی اور وقت کے لئے مقدر کر رکھا ہے۔بے شک یہ کام ہونا ہے، خاص طور پر جو جماعت کی ترقی کے کام ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں یہ مقدر ہیں۔بے شک انہوں نے ہونا ہے۔بے شک ہم نے اور جماعت نے من حیث القوم ، من حیث الجماعت اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کو سمیٹنا ہے اور پھر ان فضلوں کا ایک نئی شان کے ساتھ دوبارہ انتشار بھی ہونا ہے جس نے پھر دنیا میں پھیلنا ہے اور پھر جماعتی ترقی کے اسباب نظر آنے ہیں۔لیکن اس کے وقت کا تعین خود خدا تعالیٰ نے فرمانا ہے۔ہمارا کام اس کی رضا پر چلتے ہوئے اور دعائیں مانگتے ہوئے اپنے کام کئے چلے جانا ہے۔اس سال خلافت جو بلی کے حوالے سے ہر احمدی میں نیا جذبہ ہے۔مختلف ملکوں کے جلسہ سالانہ ہو چکے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں۔قادیان کا جلسہ سالانہ بھی دسمبر کے آخر میں مقرر کیا گیا ہے اور اس میں شمولیت کے لئے بڑے جذبے سے دنیا میں احمدیوں نے کوشش کی اور تیاریاں بھی کی ہیں۔لیکن گزشتہ دنوں ظالم لوگوں نے اس ملک میں ممبئی میں جو دہشت گردی کی واردات کی ہے، اس نے پورے ملک میں ایک بے چینی پیدا کر دی ہے۔یہاں کے اخباروں اور ٹیلیویژن چینلز نے جو شخص پکڑا گیا ہے اس کے حوالے سے انکشافات کئے ہیں۔جو باتیں سامنے آ رہی ہیں اس سے لگتا ہے کہ یہ ظالم لوگ یا گروپ جو بھی ان میں ملوث ہیں اپنے ظلموں کو مزید پھیلانے کی کوشش کریں گے۔اس کی وجہ سے حکومت نے بڑے احتیاطی اقدامات بھی کئے ہیں۔تو بہر حال ان حالات کی وجہ سے جو یہاں آج کل ہیں میں نے باہر سے آنے والے احمدیوں کو روک دیا ہے اور بلا استثناء ہر ایک کو ہمیں پھر واضح کر دوں کہ باوجود اپنی بڑھی ہوئی خواہش کے باہر سے کسی نے اس جلسہ میں شامل ہونے کے لئے نہیں آنا۔اللہ تعالیٰ حالات بہتر کرے گا تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ موقع مل جائے گا۔ہمیں تعلیم بھی یہی دی گئی ہے اور دعا بھی یہی سکھائی گئی ہے کہ ہمیشہ ابتلاؤں اور مشکلات سے بچنے کے لئے دعا کرو اور ان جگہوں سے بھی بچو۔جو یہاں کے شہری ہیں وہ تو بہر حال یہیں رہتے ہیں۔غیر ملکی جو سفر میں ہوتے ہیں ان کے حالات کچھ اور ہو جاتے ہیں۔تو بہر حال ہمیں دعاؤں کی تلقین کی گئی