خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 252 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 252

خطبات مسرور جلد ششم 252 خطبه جمعه فرموده 27 جون 2008 ٹھنڈی ہو اور اپنے مولیٰ کریم اور رسول مقبول ا کی محبت دل پر غالب آجائے اور ایسی حالت انقطاع پیدا ہو جائے جس سے سفر آخرت مکر وہ معلوم نہ ہو۔آسمانی فیصلہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 351) اللہ تعالیٰ کی محبت دل پر کس طرح غالب کی جانی چاہئے ، یا کس طرح غالب آئے گی۔عبادت کس قسم کی ہو؟ اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : ” جب تک دل فروتنی کا سجدہ نہ کرے، صرف ظاہری سجدوں پر امید رکھنا طمح خام ہے۔جیسا کہ قربانیوں کا خون اور گوشت خدا تک نہیں پہنچتا صرف تقویٰ پہنچتی ہے ایسا ہی جسمانی رکوع و سجود بھی بیچ ہے جب تک دل کا رکوع و سجود و قیام نہ ہو۔دل کا قیام یہ ہے کہ اس کے حکموں پر قائم ہو۔اور رکوع یہ کہ اس کی طرف جھکے۔اور سجود یہ کہ اس کے لئے اپنے وجود سے دست بردار ہو۔پھر فرماتے ہیں: ”دعا یہی ہے کہ خدا تعالیٰ میری اس جماعت کے دلوں کو پاک کرے اور اپنی رحمت کا ہاتھ لمبا کر کے ان کے دل اپنی طرف پھیر دے اور تمام شرارتیں اور کینے ان کے دلوں سے اٹھا دے اور باہمی سچی محبت عطا کر دے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ فرماتے ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ دعا کسی وقت قبول ہوگی اور خدا میری دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا“۔شہادت القرآن۔روحانی خزائن جلد 6 - صفحہ 398) پس ہمیں ان دنوں میں ان سجدوں کی تلاش کرنی چاہئے جو فروتنی کے سجدے ہوں اور جب ہم اس جلسے کے ماحول کی برکت سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش سے فیضیاب ہوتے ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شاملین جلسہ کے لئے کی گئی دعاؤں سے حصہ پاتے ہوئے ان سجدوں اور ان عبادتوں کی تلاش کریں جو اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والے ہوں تو پھر اس پر قائم رہنے کے لئے مزید دعاؤں کی ضرورت ہوگی۔تاکہ اللہ تعالی کے فضلوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے، ہماری عبادتوں کے معیار ہمیشہ بلند سے بلند تر ہوتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات پر عمل کرنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا کو اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کے حق میں قبول فرمائے۔ہمارے دلوں کو پاک فرمائے۔ہمارے دلوں پر صرف اور صرف خدا تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی حکومت ہو۔ان عبادتوں کے لذیذ پھل ہم خود بھی کھانے والے ہوں اور اپنے ماحول کو بھی کھلانے والے ہوں ، اپنی نسلوں کو بھی دینے والے ہوں۔ہمارے دل ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ پاتے ہوئے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں کوشاں رہیں۔جس درد کا اپنی جماعت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اظہار فرمایا ہے اس کو سمجھتے ہوئے ہم خدا تعالیٰ