خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 127
127 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم بڑے عظیم الشان دلکشا نُزهت افزاء باغ کی سیر سے واپس آئے ہیں ، یعنی بہت خوبصورت اور دل کو اچھا لگنے والے کسی باغ کی سیر سے واپس آ رہے ہیں اور اس وجہ سے جو یہ چہرہ کی رنگت اور چمک دمک اور آواز میں خوشی اور لذت ہے“۔(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی صفحہ 23-22 پبلشر ابوالفضل محمود قادیان) پھر مخالفین کے ساتھ آپ کا حلم کیا تھا۔حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب نے ہی بیان کیا کہ : ” محبوب رایوں والے مکان کا واقعہ ہے۔ایک جلسہ میں جہاں تک مجھے یاد ہے۔ایک برہمولیڈ ر ( غالبا انباش موز مدار بابو تھے ) حضرت سے کچھ استفسار کر رہے تھے اور حضرت جواب دیتے تھے۔اسی اثناء میں ایک بد زبان مخالف آیا اور اس نے حضرت کے بالمقابل نہایت دل آزار اور گندے حملے آپ پر کئے۔وہ نظارہ میرے اس وقت بھی سامنے ہے۔آپ منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے جیسا کہ اکثر آپ کا معمول تھا کہ پگڑی کے شملہ کا ایک حصہ منہ پر رکھ کر یا بعض اوقات صرف ہاتھ رکھ کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔خاموش بیٹھے رہے اور وہ شور پشت بکتا رہا۔مغلظات بکتا رہا۔آپ اس طرح پر مست اور مگن بیٹھے تھے کہ گویا کچھ ہونہیں رہا۔یا کوئی نہیں ہے۔یا اس طرح بیٹھے تھے کہ گویا کوئی نہایت شیریں مقال گفتگو کر رہا ہے۔اچھی اچھی باتیں سنا رہا ہے۔”بر ہمولیڈر نے اسے منع کرنا چاہا مگر اس نے پر واہ نہ کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) نے ان کو فرمایا کہ آپ اسے کچھ نہ کہیں ، کہنے دیجئے۔آخر وہ خود ہی بکواس کر کے تھک گیا اور اٹھ کر چلا گیا۔برہمولیڈ ر بے حد متاثر ہوا اور اس نے کہا کہ یہ آپ کا بہت بڑا اخلاقی معجزہ ہے۔اس وقت حضور اسے چپ کرا سکتے تھے۔اپنے مکان سے نکال سکتے تھے اور بکواس کرنے پر آپ کے ایک ادنیٰ اشارے سے اس کی زبان کائی جا سکتی تھی۔مگر آپ نے اپنے کامل حلم اور ضبط نفس کا عملی ثبوت دیا“۔(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔مصنفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی۔صفحہ 444-443) پھر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی لکھتے ہیں کہ : جالندھر کے مقام پر وہ ( میر عباس علی صاحب۔ناقل ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور بیٹھے ہوئے اعتراضات کر رہے تھے۔حضرت مخدوم الملت مولا نا عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ بھی اس مجلس میں موجود تھے۔کہتے ہیں ” مجھے خود انہوں نے ہی یہ واقعہ سنایا۔مولانا نے فرمایا کہ میں دیکھتا تھا کہ میر عباس علی صاحب ایک اعتراض کرتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت شفقت رافت اور نرمی سے اس کا جواب دیتے تھے اور جوں جوں حضرت صاحب اپنے جواب اور طریق خطاب میں نرمی اور محبت کا پہلو اختیار کرتے میر صاحب کا جواب بڑھتا جاتا یہاں تک کہ وہ کھلی کھلی بے حیائی اور بے ادبی پر اتر آیا اور تمام تعلقات در بینہ اور شرافت کے پہلوؤں کو ترک کر کے تو تو میں میں پر آ گیا۔کہتے ہیں میں دیکھتا تھا کہ حضرت مسیح موعو علیہ السلام اس حالت میں اسے یہی فرماتے۔