خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 128
خطبات مسرور جلد ششم 128 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 مارچ 2008 جناب میر صاحب آپ میرے ساتھ چلیں۔میرے پاس رہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے لئے کوئی نشان ظاہر کر دے گا اور آپ کی رہنمائی کرے گا۔وغیرہ وغیرہ۔مگر میر صاحب کا غصہ اور بے با کی بہت بڑھتی گئی۔مولوی صاحب کہتے ہیں میں حضرت کے حلم اور ضبط نفس کو دیکھتے ہوئے بھی میر عباس علی صاحب کی سُبک سری کو برداشت نہ کر سکا۔اور میں جو دیر سے پیچ و تاب کھا رہا تھا اور اپنے آپ کو بے غیرتی کا مجرم سمجھ رہا تھا کہ میرے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ اس طرح حملہ کر رہا ہے اور میں خاموش بیٹھا ہوں، مجھ سے نہ رہا گیا اور میں باوجود اپنی معذوری کے اس پر لپکا اور للکارا اور ایک تیز آوازہ اس پر کسا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اٹھ کر بھاگ گیا۔حضرت مولوی صاحب فرماتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ضبط نفس اور حلم کا جو نمونہ دکھایا میں اسے دیکھا تھا اور بڑا پریشان تھا۔مگر مجھے خوشی بھی تھی کہ میں نے اپنے آپ کو بے غیرتی کا مجرم نہیں بنایا۔کہ وہ میرے سامنے حضرت کی شان میں نا گفتنی بات کہے اور میں سنتار ہوں۔کہتے ہیں کہ گو بعد کی معرفت سے مجھ پر یہ کھلا کہ حضرت کا ادب میرے اس جوش پر غالب آنا چاہئے تھا۔یعنی مجھے حضور کے سامنے بولنا نہیں چاہئے تھا۔سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصنفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی - صفحہ 445-444) پھر مولوی صاحب عبدالکریم صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجلس میں آپ کسی دشمن کا ذکر نہیں کرتے۔اور جو کسی کی تحریک سے ذکر آ جائے تو برے نام سے یاد نہیں کرتے۔یہ ایک بین ثبوت ہے کہ آپ کے دل میں کوئی جلانے والی آگ نہیں۔ورنہ جس طرح کی ایذاء قوم نے دی ہے اور جو سلوک مولویوں نے کیا ہے اگر آپ اسے واقعی دنیا دار کی طرح محسوس کرتے تو رات دن کڑھتے رہتے اور ایر پھیر کر انہیں کا مذکور درمیان لاتے اور یوں حواس پریشان ہو جاتے اور کاروبار میں خلل آ جاتا“۔سیرت مسیح موعود علیہ السلام از مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوئی صفحہ 51-52 پبلشرز ابوالفضل محمود۔قادیان) پھر لکھتے ہیں : ” ایک روز فرمایا کہ میں اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے بیٹھ کر میرے نفس کو گندی سے گندی گالی دیتا ر ہے آخر وہی شرمندہ ہوگا۔اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا“۔۔۔۔سیرت مسیح موعود علیہ السلام از مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوئی صفحہ 51-52 پبلشر زا بوالفضل محمود - قادیان) پھر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ایک اور واقعہ سناتے ہیں کہ ایک روز ایک ہندوستانی جس کو اپنے علم پر بڑا ناز تھا۔اور اپنے آپ کو بڑا تجربہ کار اور ہر طرح سے زمانے کو دیکھنے والا سمجھتا تھا۔ہماری مسجد میں آیا۔راور حضرت سے آپ کے دعوے کی نسبت بڑی گستاخی سے بات کی اور تھوڑی گفتگو کے بعد اس نے کئی دفعہ کہا کہ آپ اپنے دعوے میں کا ذب ہیں اور میں نے ایسے مکار بہت دیکھتے ہیں اور میں تو ایسے کئی بغل میں دبائے پھرتا ہوں۔