خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 126
خطبات مسرور جلد ششم 126 خطبه جمعه فرموده 21 مارچ 2008 حافظ صاحب کہتے تھے کہ مجھے ساری عمر میں کبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہ جھڑ کا اور بختی سے خطاب کیا۔بلکہ میں بڑا ہی ست تھا اور اکثر آپ کے ارشادات کی تعمیل میں دیر بھی کر دیا کرتا تھا“۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔مصنفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی۔صفحہ 349) لیکن کبھی سوال ہی پیدا نہیں ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سختی کی ہو۔پھر انسان پہ صحت اور بیماری کا دور بھی آتا ہے۔بیماری میں چڑ چڑا پن بھی پیدا ہو جاتا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن کو اس زمانے کی اصلاح کے لئے آنحضرت ﷺ کی غلامی میں اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تھا۔آپ کا اس زمانے میں کیا رویہ ہوتا تھا۔اس بارے میں روایت سنیں۔حضرت مولوی عبد الکریم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ کو سخت در دسر ہورہا تھا۔اور میں بھی اندر آپ کے پاس بیٹھا تھا۔اور پاس حد سے زیادہ شور و غل بر پا تھا۔میں نے عرض کیا کہ آپ کو اس شور سے تکلیف تو نہیں ہوتی ؟ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ہاں اگر یہ چپ ہو جائیں تو آرام ملتا ہے۔تو میں نے عرض کیا کہ جناب کیوں حکم نہیں کرتے۔فرمایا آپ ان کو نرمی سے کہہ دیں۔میں تو کہہ نہیں سکتا۔بڑی بڑی سخت بیماریوں میں الگ ایک کوٹھڑی میں پڑے ہیں اور ایسے خاموش پڑے ہیں گویا مزہ میں سورہے ہیں۔کسی کا گلہ نہیں کہ تو نے ہمیں کیوں نہیں پوچھا۔اور تو نے ہمیں پانی نہیں دیا اور تو نے ہماری خدمت نہیں کی۔بیماری میں بھی آرام سے لیٹے رہتے تھے۔کسی سے کوئی شکوہ نہیں ہوتا تھا۔پھر کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک شخص بیمار ہوتا ہے اور تمام تیمار داراس کی بدمزاجی اور چڑچڑا پن سے اور بات بات پر بگڑ جانے سے پناہ مانگ اٹھتے ہیں۔بعض دفعہ ایسی بیماری میں گالیاں بھی دیتا ہے۔” اسے گالی دیتا ہے۔اسے گھورتا ہے اور بیوی کی تو شامت آجاتی ہے۔بیچاری کو نہ دن کو آرام اور نہ رات کو چین۔کہیں تکان کی وجہ سے ذرا اونگھ آگئی ہے۔بس پھر کیا خدا کی پناہ۔آسمان کو سر پر اٹھالیا۔وہ بیچاری حیران ہے۔ایک تو خود چُور چُور ہورہی ہے اور ادھر یہ فکر لگ گئی ہے کہ کہیں مارے غضب وغیظ کے اس بیار کا کلیجہ پھٹ نہ جائے۔غصے میں مجھے تو جو کہہ رہا ہے کہہ رہا ہے اس کی اپنی بیماری نہ بڑھ جائے۔غرض جو کچھ بیمار اور بیماری کی حالت ہوتی ہے۔خدا کی پناہ کون اس سے بے خبر ہے۔برخلاف اس کے سالہا سال سے دیکھا اور سنا ہے کہ جو طمانیت اور جمعیت اور کسی کو بھی آزار نہ دینا۔حضرت (یعنی حضرت مسیح موعود ) کے مزاج مبارک کو صحت میں حاصل ہے۔وہی سکون حالت بیماری میں بھی ہے۔اور جب بیماری سے افاقہ ہوا معا وہی خندہ روئی، کشادہ پیشانی اور پیار کی باتیں ہیں۔کہتے ہیں : میں بسا اوقات عین اس وقت پہنچا ہوں جبکہ ابھی ابھی سر درد کے لمبے اور سخت دورہ سے آپ کو افاقہ ہوا۔آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا ہے تو مسکرا کر دیکھا ہے۔اور فرمایا ہے اب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا۔جب بیماری کے بعد فوری طور پر پہنچا اور آپ کو دیکھا کہ گویا آپ کسی