خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 82

خطبات مسرور جلد ششم 82 خطبه جمعه فرموده 22 فروری 2008 پر گر پڑے۔جہاں تک طاقت ہے وہاں تک رقت کے پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اور تضرع سے دعا مانگے کہ شوخی اور گناہ جواندر نفس میں ہیں وہ دور ہوں۔اسی قسم کی نماز با برکت ہوتی ہے۔اور اگر وہ اس پر استقامت اختیار کرے گا تو دیکھے گا کہ رات کو یا دن کو ایک نور اس کے قلب پر گرا ہے اور نفس امارہ کی شوخی کم ہوگئی ہے۔جیسے اثر دہا میں ایک سیم قاتل ہے اسی طرح نفس امارہ میں بھی سم قاتل ہوتا ہے اور جس نے اسے پیدا کیا اسی کے پاس اس کا علاج ہے“۔( البدر جلد 3 نمبر 34 مورخہ 8 ستمبر 1904ء صفحہ 3) پس عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور گرنا اور اس میں استقامت دکھانا ، ثابت قدم رہنا، یہ نہیں کہ کبھی نماز یں پڑھ لیں اور کبھی نہیں ، اگر یہ دونوں چیزیں قائم رہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ پھر برائیوں پر ابھارنے والے جذبات ایک دن ختم ہو جائیں گے کیونکہ برائیوں کو مارنے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا ضروری ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَأمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا۔لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ۔وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوی (طه : 133) اور اپنے گھر والوں کو نماز کی تلقین کرتارہ اور اس پر ہمیشہ قائم رہ۔ہم تجھے سے کسی قسم کا رزق طلب نہیں کرتے ، ہم ہی تو تجھے رزق عطا کرتے ہیں اور نیک انجام تقویٰ ہی کا ہوتا ہے۔پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کا اعلان حکم، ہدایت کہ تم خود بھی نمازوں کی طرف توجہ کرو اور اپنے گھر والوں کو بھی توجہ دلاؤ۔کیونکہ یہ تمہارے ہی فائدہ کے لئے ہے۔اس دنیا میں بھی اس کے پھل ہیں اور آخرت میں بھی متقی ہی ہے جو فلاح پانے والا ہوگا۔اس دنیا میں بھی متقی ہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ ایسے ایسے ذرائع سے رزق دیتا ہے جہاں تک اس کا خیال بھی نہیں جاتا۔پس اللہ تعالیٰ یہ نمازیں فرض کر کے تم پر کوئی ٹیکس نہیں لگا رہا بلکہ اپنے مقصد پیدائش کو پورا کرنے والے انسان کو انعامات سے نواز رہا ہے۔انعامات کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے۔انسان دنیا میں بھی انعامات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر روحانی انعامات حاصل کرنے کے لئے کیوں نہیں۔جب ایسا پیار کرنے والا خدا ہو تو پھر کیا وجہ ہے کہ انسان اس کی عبادت نہ کرے، اس کا شکر گزار نہ ہو۔آنحضرت یہ کسی نے کہا کہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے انعامات دینے کا اعلان کر دیا ہے پھر آپ اتنی لمبی لمبی نمازیں کیوں پڑھتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ کیا میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ پس یہ اسوہ ہے جس پر چل کر ہم اللہ تعالیٰ کے انعاموں کے حقیقی شکر گزار ہو سکتے ہیں۔ہماری نمازوں کی کیفیت کیا ہونی چاہئے؟ نماز کی حرکات، اس کی مختلف حالتیں جو ہیں ان کی حکمت کیا ہے اور کس طرح ان حکمتوں کو سمجھتے ہوئے ان کو ادا کرنا چاہئے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: