خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 81
خطبات مسرور جلد ششم 81 خطبه جمعه فرموده 22 فروری 2008 ہے۔پس اگر ان لوگوں میں شمار ہونا ہے جو خدا کا قرب پانے والے لوگ ہیں تو پھر نمازوں میں باقاعدگی اور بغیر ریاء کے، بغیر دکھاوے کے ان کی ادائیگی کی ضرورت ہے اور یہی چیز ہمیں دوسروں سے ممتاز کرنے والی ہوگی اور یہی چیز ہمیں خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والے ہوگی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خشِعُوْنَ (المومنون: 3-2) یقیناً مومن کامیاب ہو گئے۔وہ لوگ جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔اللہ تعالی نے فلاح پانے والے مومنوں کی بہت سی خصوصیات ان آیات کے بعد بیان فرمائی ہیں۔لیکن سب سے پہلی بات یہی ہے کہ نمازیں پڑھتے ہیں اور خالص اللہ تعالیٰ کے ہو کر عاجزی دکھاتے ہوئے نمازیں پڑھتے ہیں۔پس کامیا بی کی پہلی سیڑھی ، دنیا و آخرت کے افضال سے فیضیاب ہونے کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ اپنی نمازیں خالص اللہ کے لئے پڑھیں۔اور جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے یہ نماز یں اللہ تعالیٰ کا خوف ، اس کی محبت حاصل کرنے کے لئے اور پھر اس کی محبت میں بڑھنے ، اس کے انعامات اور اس کی رضا کے حصول کے لئے پڑھی جائیں۔اور یہی ایک انسان کی زندگی کا مقصود ہے اور جس کو بہل جائے اسے اور کیا چاہئے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اول مرتبہ مومن کے روحانی وجود کا وہ خشوع اور رقت اور سوز و گداز کی حالت ہے جو نماز اور یاد الہی میں مومن کو میسر آتی ہے۔یعنی گدازش اور قمت اور فروتنی اور عجز و نیاز اور روح کا انکسار اور ایک تڑپ اور قلق اور تپش اپنے اندر پیدا کرنا اور ایک خوف کی حالت اپنے پر وارد کر کے خدائے عزوجل کی طرف دل کو جھکانا جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ هُمْ فِى صَلَاتِهِمْ خَشِعُونَ (المومنون : 3-2) یعنی وہ مومن مراد پاگئے جو اپنی نماز میں اور ہر ایک طور کی یاد الہی میں فروتنی اور عجز و نیاز اختیار کرتے ہیں اور رقت اور سوز و گداز اور قلق اور کرب اور دلی جوش سے اپنے رب کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں۔یہ خشوع کی حالت جس کی تعریف کا اوپر اشارہ کیا گیا ہے روحانی وجود کی طیاری کے لئے پہلا مرتبہ ہے یا یوں کہو کہ وہ پہلا تم ہے جو عبودیت کی زمین میں بویا جاتا ہے۔( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد سوم صفحہ 351) یعنی روحانی وجود کی تیاری کے لئے پہلا مرتبہ یہ ہے یاوہ ایسا بیج ہے جو ایک بندے کے صحیح عابد بننے کے لئے اس زمین میں بویا جاتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : نماز جو کہ پانچ وقت ادا کی جاتی ہے اس میں بھی یہی اشارہ ہے کہ اگر وہ نفسانی جذبات اور خیالات سے اسے محفوظ نہ رکھے گا تب تک وہ سچی نماز ہر گز نہ ہوگی۔نماز کے معنے ٹکریں مار لینے اور رسم اور عادت کے طور پر ادا کرنے کے ہرگز نہیں۔نماز وہ شے ہے جسے دل بھی محسوس کرے کہ روح پکھل کر خوفناک حالت میں آستانہ الوہیت