خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 83 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 83

خطبات مسرور جلد ششم 83 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 فروری 2008 صلی جلنے کو کہتے ہیں۔جیسے کباب کو بھونا جاتا ہے اسی طرح نماز میں سوزش لازمی ہے۔جب تک دل بریان نہ ہونماز میں لذت اور سرور پیدا نہیں ہوتا اور اصل تو یہ ہے کہ نماز ہی اپنے بچے معنوں میں اس وقت ہوتی ہے“۔جب ایسی حالت پیدا ہو جائے۔”نماز میں یہ شرط ہے کہ وہ جمیع شرائط ادا ہو۔جب تک وہ ادا نہ ہو وہ نماز نہیں ہے اور نہ وہ کیفیت جو صلوٰۃ میں میل نما کی ہے حاصل ہوتی ہے۔یاد رکھو صلوٰۃ میں حال اور قال دونوں کا جمع ہونا ضروری ہے۔یعنی پہلے تو یہ کہا کہ وہ کیفیت جو صحیح راستے دکھانے والی ہے، جہاں سے بنیاد شروع ہونی چاہئے وہ نہیں مل سکتی جب تک ساری شرائط پوری نہ ہوں۔پھر فرمایا کہ 'یا درکھو صلوۃ میں حال اور قال یعنی تمہاری اپنی حالت اور جو تم کہہ رہے ہو ” دونوں کا جمع ہونا ضروری ہے۔بعض وقت اعلام تصویری ہوتا ہے۔ایسی تصویر دکھائی جاتی ہے جس سے دیکھنے والے کو پتہ ملتا ہے کہ اس کا منشاء یہ ہے۔ایسا ہی صلوۃ میں منشاء الہی کی تصویر ہے۔یہ شکل جو اس کی بنتی ہے، تصویر دکھائی جاتی ہے اس سے صحیح صورت حال پتہ لگتی ہے اور حالتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی جو مرضی ہے اس کی تصویر نماز میں ہے۔”نماز میں جیسے زبان سے کچھ پڑھا جاتا ہے ویسے ہی اعضاء اور جوارح کی حرکات سے کچھ دکھایا بھی جاتا ہے“۔زبان سے جب نماز پڑھتے ہیں اسی طرح جو جسم کے اعضاء ہیں ،حرکات ہیں، وہ ان سے دکھایا جاتا ہے۔” جب انسان کھڑا ہوتا ہے تو تحمید اور تہی کرتا ہے اس کا نام قیام رکھا ہے۔اب ہر ایک شخص جانتا ہے کہ حمد و ثناء کے مناسب حال قیام ہی ہے۔بادشاہوں کے سامنے جب قصائد سنائے جاتے ہیں تو آخر کھڑے ہو کر ہی پیش کرتے ہیں۔ادھر تو ظاہری طور پر قیام رکھا ہی ہے اور زبان سے حمد وثناء بھی رکھی ہے۔مطلب اس کا یہی ہے کہ روحانی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہو۔حمد ایک بات پر قائم ہو کر کی جاتی ہے۔جو شخص مصدق ہو کر کسی کی تعریف کرتا ہے تو ایک رائے پر قائم ہو جاتا ہے“۔جب تعریف کی جاتی ہے تو کسی رائے پر قائم ہو کر کی جاتی ہے۔فرمایا کہ جب کسی کی تصدیق کر رہے ہو ، تصدیق کرتے ہوئے تعریف کر رہے ہو تو وہ کسی رائے پر قائم ہونے کے بعد ہوتی ہے۔اس الحمد للہ کہنے والے کے واسطے یہ ضروری ہوا کہ وہ کے طور پر الحمد للہ اس وقت کہہ سکتا ہے کہ پورے طور پر اس کو یقین ہو جائے کہ جمیع اقسام محامد کے اللہ تعالیٰ کے ہی لئے ہیں۔تمام قسم کی جو تعریفیں ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں۔تبھی الحمد للہ صحیح طرح کہہ سکتا ہے۔” جب یہ بات دل میں انشراح کے ساتھ پیدا ہوگئی تو یہ روحانی قیام ہے کیونکہ دل اس پر قائم ہو جاتا ہے اور وہ سمجھا جاتا ہے کہ کھڑا ہے۔حال کے موافق کھڑا ہو گیا تا کہ روحانی قیام نصیب ہو۔دل بھی اس حالت کے مطابق کھڑا ہو گیا اور یہ روحانی قیام ہے، روحانیت کا کھڑا ہونا ہے۔” پھر رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیم کہتا ہے تو قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی کی عظمت مان لیتے ہیں تو اس کے حضور جھکتے ہیں۔عظمت کا تقاضا ہے کہ اس کے لئے رکوع کرے۔پس سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظیم زبان سے کہا اور حال سے جھکنا دکھایا۔اللہ تعالیٰ کی زبان سے عظمت بیان کی ، اور اپنی ظاہری حالت میں جھک کر اس کا اظہار کیا۔یہ اس قول کے