خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 77 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 77

خطبات مسرور جلد ششم 77 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 فروری 2008 نفل ہیں تو اس کے فرضوں کے پلڑے میں ڈال دو تا کہ فرضوں کی کمی پوری ہو جائے۔پس صرف نمازوں کی ادائیگی نہیں بلکہ انسان جو کہ کمزور واقع ہوا ہے اسے یہ دیکھنا اور سوچنا چاہئے کہ کسی وقت ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ میرے فرض صحیح حق کے ساتھ ادا نہ ہوئے ہوں تو کوشش کر کے نفل بھی ادا کرنے کی کوشش کرے۔یہ ایک مومن کا اعلیٰ معیار ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے والا بنے۔اپنے پیارے خدا کا جس کے بے شمار احسانات اور انعامات ہیں شکر ادا کرے۔، ہم احمدی مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا کس قدر احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر ہم ایک جماعت ہیں۔ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ہم ایک ہاتھ پر اٹھنے بیٹھنے کے نظارے دیکھتے ہیں۔جب ہماری یہ صورت حال ہے تو جو سب سے زیادہ تنظیم پیدا کرنے والی چیز ہے اس کا ہمیں کس قدر خیال کرنا چاہئے۔اور پھر صرف اس دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی ہم اس سے فائدہ اٹھا رہے ہوں گے۔سب سے پہلے جو جائزہ ہوگا وہ نماز کے بارے میں ہوگا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔پس ایک احمدی مسلمان صرف اپنی فرض نمازوں کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ نوافل بھی ادا کرتا ہے تا کہ کمزوریوں کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نظارے نظر آتے رہیں۔اس کی رحمت کی نظر پڑتی رہے اور یہی غیب میں ڈرنا ہے۔نوافل ادا کرتے ہوئے تو ایک انسان بالکل علیحدگی میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتا ہے۔یہ صورتحال ایک احمدی مسلمان کی ہونی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نماز کی اہمیت کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ : : نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی یا رسول اللہ! ہمیں نماز معاف فرما دی جاوے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں۔آجکل کے بعض کا روباری بھی یہی بہانے کرتے ہیں۔انہوں نے بھی یہی کہا کہ ہمیں نماز معاف فرما دی جائے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں۔مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا کہ صاف ہیں کہ نہیں۔” اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے۔دو بہانے ہیں، ایک کیونکہ جانور پالنے والے ہیں اس لئے پتہ نہیں کپڑے صاف بھی ہیں کہ نہیں اور نماز کے لئے حکم ہے کہ صاف کپڑے پہنو اور دوسرے کاروبار بھی ہے۔دونوں صورتوں کی وجہ سے وقت نہیں ملتا۔” تو آپ نے (آنحضرت ﷺ نے ) اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو جب نماز نہیں تو ہے ہی کیا؟ وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔نماز کیا ہے؟ یہی کہ اپنے عجز و نیاز اور کمر وزریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا۔کبھی اس کی عظمت اور اس کے احکام کی بجا آوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔اس سے اپنی حاجات کا مانگنا ، یہی نماز ہے۔ایک سائل کی طرح کبھی اس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے یعنی جس سے مانگا جارہا ہے ، اس کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے۔” اس کی عظمت