خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 76

خطبات مسرور جلد ششم 76 خطبه جمعه فرمود ه 22 فروری 2008 خیال نہیں آنا چاہئے کہ نمازوں میں ستیاں کرنی شروع کر دیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ہمیشہ یادرکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہر ایک نے اپنے اعمال کے ساتھ جاتا ہے، کوئی قریبی بھی کسی کے کام نہیں آسکتا۔پس یہاں اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا چاہے کوئی قریبی ہی کیوں نہ ہو، پھر ایمان بالغیب اور نماز کا ذکر اور نفس کی پاکیزگی کا ذکر اور پھر یہ کہ آخری ٹھکا نہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہی ہے، یہ سب باتیں ہم کمزوروں کو توجہ دلانے کے لئے ہیں کہ آخرت کا خوف ہمیشہ تمہارے سامنے رہے۔اور جب یہ یقین ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مالک یوم الدین ہے اور اس کی طرف لوٹنا ہے تو پھر نفس کی پاکیزگی کی طرف بھی خیال رہے گا۔اور نفس کی پاکیزگی کے لئے سب سے اہم ذریعہ قیام نماز ہے اور یہ نماز کا قیام کرنے والے ہی وہ لوگ ہیں جن کا غیب پر بھی ایمان مضبوط ہوتا ہے اور جو غیب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ان کے ہی تقویٰ کے معیار بھی اونچے ہوتے ہیں۔پس ہر احمدی کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ صرف منہ سے کہہ دینا کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں۔اللہ کے آخری نبی ﷺ پر ایمان لاتے ہیں اور آخری زمانے میں آنے والے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانتے ہیں ، یہ کافی نہیں ہو گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہوگا۔جب اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا، ایسا خوف جو ایک قریبی تعلق والے کو دوسرے کا ہوتا ہے کہ کہیں ناراض نہ ہو جائے تو اس سے پھر محبت میں اضافہ ہوگا۔اور جب محبت میں اضافہ ہوگا تو یہ خوف مزید بڑھے گا اور اس کی وجہ سے نیک اعمال سرزد ہوں گے۔ان کے کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔نمازوں میں باقاعدگی کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔نمازوں کو اس کے حق کے ساتھ ادا کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوگی، ورنہ نری بیعت جو ہے وہ بخشش کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ایک روایت میں آتا ہے، یونس کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ نبی ہم نے فرمایا: لوگوں کے اعمال میں سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس بات کا محاسبہ کیا جائے گا وہ نماز ہے۔آنحضور ﷺ نے فرمایا: ہمارا رب عز وجل فرشتوں سے فرمائے گا، حالانکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے، کہ میرے بندے کی نماز کو دیکھ کہ کیا اس نے اسے مکمل طور پر ادا کیا تھا یا نامکمل چھوڑ دیا ؟ پس اگر اس کی نماز مکمل ہوگی تو اس کے نامہ اعمال میں مکمل نماز لکھی جائے گی اور اگر اس نماز میں کچھ کمی رہ گئی ہوگی تو فرمائے گا کہ دیکھیں کیا میرے بندے نے کوئی نفلی عبادت کی ہوئی ہے؟ پس اگر اس نے کوئی نفلی عبادت کی ہوگی تو فرمائے گا کہ میرے بندے کی فرض نماز میں جو کمی رہ گئی تھی وہ اس کے نفل سے پوری کر دو۔پھر تمام اعمال کا اسی طرح مؤاخذہ کیا جائے گا۔(سنن نسائی۔کتاب الصلوہ باب المحاسبة على الصلوة حديث 466) پس جب مرنے کے بعد سب سے پہلا امتحان جس میں سے ایک انسان کوگزرنا ہے وہ نماز ہے، تو کس قد راس کی تیاری ہونی چاہئے۔پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر مہربان بھی ہے۔فرمایا کہ بندے کے نفل دیکھو اگر اس کے