خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 78 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 78

78 خطبه جمعه فرمود ه 22 فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم اور جلال کا اظہار کر کے اس کی رحمت کو جنبش دلانا پھر اس سے مانگنا، پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے۔انسان ہر وقت محتاج ہے اس سے اس کی رضا کی راہیں مانگتا رہے اور اس کے فضل کا اس سے خواستگار ہو کیونکہ اس کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جا سکتا ہے۔اے خدا ہم کو توفیق دے کہ ہم تیرے ہو جائیں اور تیری رضا پر کار بند ہو کر تجھے راضی کر لیں۔خدا تعالیٰ کی محبت، اسی کا خوف، اسی کی یاد میں دل لگارہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے۔پھر فرماتے ہیں کہ " پھر جو شخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنی چاہتا ہے، اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا؟ وہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سور ہنا۔یہ تو دین ہرگز نہیں۔یہ سیرت کفار ہے بلکہ جو دم غافل وہ دم کا فر والی بات بالکل راست اور صحیح ہے۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 189 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس نماز مومن کے لئے ایک ایسی چیز ہے جس کا خیال رکھنا ، اس میں با قاعدگی رکھنا ، یہی وہ باتیں ہیں جو ایک مومن اور غیر مومن میں فرق کرنے والی ہیں۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اگر عبادت نہیں تو جانور اور انسان میں کیا فرق ہوا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں غیر مومنوں کی برائیوں کا جہاں ذکر فرماتا ہے وہاں مومنوں کو ان کمزوریوں سے پاک اس لئے قرار دیتا ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں۔فرما الَّا الْمُصَلَّيْنَ الَّذِيْنَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُوْنَ (المعارج:24-23) ہاں نماز پڑھنے والوں کا معاملہ الگ ہے۔وہ لوگ جو اپنی نماز پر دوام اختیار کرنے والے ہیں۔پہلے ان کا ذکر ہوا جن میں برائیاں ہیں اس کے بعد فرمایا جو نمازیں پڑھنے والے ہیں اور اس میں با قاعدگی اختیار کرنے والے ہیں وہ مومن ہیں۔ان کا معاملہ بالکل علیحدہ ہے۔دنیاوی کاموں کے حرج ان کی راہ میں حائل نہیں ہوتے۔اور پھر اعلیٰ اخلاق کے مالک بھی یہ لوگ ہیں۔یوم آخرت پر ایمان لانے والے ہیں اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔پس حقیقی نمازیوں کی یہی نشانی ہے کہ ان کے اخلاق بھی اعلیٰ ہوں ، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے والے بھی ہوں اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے بھی ہوں۔پس نمازیں بھی خدا تعالیٰ وہ قبول کرتا ہے جو حقیقی نمازیں ہوں۔مسلمانوں میں بعض بڑی باقاعدگی سے نمازیں پڑھنے والے ہیں لیکن ما حول ان سے پناہ مانگتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی بھی نشاندہی فرما دی کہ نماز میں بہت ضروری ہیں لیکن وہ نمازیں پڑھو جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والی ہوں۔صرف دکھاوے کی نمازیں نہ ہوں۔ایسی نمازیں نہ ہوں جن پر دنیاوی کام حاوی ہو جائیں بلکہ نمازیں ہر دنیاوی کام پر مقدم ہیں۔اور پھر ان میں باقاعدگی بھی ہو اور پھر اللہ تعالیٰ کے خوف سے ہوں۔ان نمازوں کا اثر مومنین کے معاشرے اور اس ماحول میں جو تعلقات ہیں ان میں بھی نظر آئے۔اور پھر یہ بھی دل میں خیال نہ ہو کہ لوگ مجھے دیکھ کر کہیں کہ بڑا نمازی ہے۔بعض نمازی ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر آیا