خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 51 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 51

خطبات مسرور جلد ششم 51 خطبه جمعه فرموده یکم فروری 2008 پس یہ جو آیات ہیں اس مرگی کے ہر ہر لفظ میں ان کی پاک باتوں میں نظر آئیں جنہوں نے ان کو قبول کیا۔لیکن کور باطن جو تھے وہ واضح آیات اور کتاب کی پاک کرنے والی پر حکمت تعلیم کو دیکھ کر بھی اس فیض سے محروم رہے۔پھر تزکیہ کے بعد تعلیم کتاب کو حکمت پر مقدم کیا گیا ہے یعنی کتاب حکمت سے پہلے رکھی گئی ہے کیونکہ اعلیٰ ایمان والا شخص یہ دیکھتا ہے کہ اس کے محبوب کا کیا حکم ہے۔وہ دلیلوں کی تلاش میں نہیں رہتا۔بلکہ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کہتا ہے کہ ہم نے حکم سن لیا ہے اور ہم اس کے دل سے فرمانبردار ہو چکے ہیں۔ہمارے پچھلے تجربات بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ ہر صل الله حکم پر عمل کرنے سے ہمارے دلوں کا تزکیہ ہوا ہے۔اس لئے یقینا اے نبی ﷺ ! تیرے پر خدا تعالیٰ کی طرف سے اترے ہوئے اس حکم میں بھی کوئی حکمت ہو گی۔چاہے ہمیں اس کی سمجھ آئے یا نہ آئے۔ہمارا اصل مقصود تو محبوب حقیقی کی رضا حاصل کرنا ہے جو اس پیارے نبی کے ساتھ جوڑ کر اس کے کہے ہوئے لفظ لفظ پر عمل کرنے سے ملتی ہے۔پس حکمتیں تو اس حکم کی جو بھی آئے بعد میں سمجھ آتی رہیں گی لیکن اپنے محبوب کی اطاعت ہم ابھی فوری کرتے ہیں۔یہ فلسفیوں اور کمزور ایمان والوں کا کام ہے کہ حکمتوں کے سراغ لگاتے پھریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دین العجائز اختیار کرنے کی اسی لئے تلقین فرمائی ہے۔لیکن جہاں تکبر اور فلسفہ میں انسان پڑے گا تو تزکیہ نہیں ہوسکتا اور جب آدمی میں تکبر آجائے تو پھر ایمان میں ترقی تو کیا قبول کرنے کی بھی توفیق نہیں ملتی۔پس حکمت کا علم ہونا ایک کامل مومن کے لئے ، ایمان لانے کے لئے ضروری نہیں ہے اور جس کا ایمان صرف دلائل کی حد تک ہو اس کو حکمت کی بھی ضرورت ہے اور یہ کمزوری ایمان ہونے کی نشانی ہے۔پس نبی کا تزکیہ کرنا، اس کا حکم دینا اور اس حکم کو ماننا اور نبی کی باتیں سن کر اپنے دلوں کو پاک کرنے کی کوشش یہ کامل الایمان لوگوں کا شیوہ ہے۔اور ناقص ایمان حکمت کا تقاضا کرتا ہے۔اس لئے ہر قسم کی طبائع کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس عظیم رسو پر وہ تعلیم اتاری جس میں ہر حکم کی حکمت بھی بیان ہوئی ہے۔پس یہ خاصہ ہے آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کا جو ہر قسم کی طبائع اور مزاج کے لوگوں کے لئے مکمل تعلیم ہے۔کسی کے لئے کوئی فرار کی جگہ نہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دين العجائز کو ہی کامل ایمان والوں کا خاصہ فرماتے تھے۔ہمیں حکمتوں کی بجائے پہلے ایمان میں مضبوطی کی کوشش کرنی چاہئے پھر حکمتیں بھی سمجھ آجاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔” خدا تعالیٰ کا کلام ہمیں یہی سکھلاتا ہے کہ تم ایمان لاؤ تب نجات پاؤ گے۔یہ ہمیں ہدایت نہیں دیتا کہ تم ان عقائد پر جو نبی علیہ السلام نے پیش کئے، دلائل فلسفیہ اور براہین یقینیہ کا مطالبہ کرو اور جب تک علوم ہندسہ اور حساب کی طرح وہ صداقتیں کھل نہ جائیں، یعنی ایک اور ایک دو کی طرح ہر چیز ثابت نہ ہو جائے تب تک ان کو مت مانو۔ظاہر ہے کہ اگر نبی کی باتوں کو علوم حسیہ کے ساتھ وزن کر کے ہی ماننا ہے تو وہ نبی کی متابعت نہیں بلکہ ہر یک صداقت جب کامل طور پر کھل جائے خود واجب التسلیم ٹھہرتی ہے۔خواہ اس کو ایک نبی بیان کرے خواہ غیر نبی۔یعنی اگر ظاہری باتوں پر جا کر لینا ہے تو جب سچائی کھل گئی پھر کوئی بھی بات کرے تو لوگ اس کو مان ہی لیتے ہیں۔وہ ایمان بالغیب نہیں ہوتا۔غیر نبی بھی کوئی ایسی بات کرے تو وہ بھی لوگ مانتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ :۔بلکہ اگر ایک فاسق بھی بیان کرے تب بھی ماننا ہی پڑتا ہے۔جس خبر کو نبی کے اعتبار پر اور اس کی صداقت کو مسلم رکھ کر ہم قبول کریں گے وہ چیز ضرور ایسی ہونی چاہئے کہ گو عند العقل صدق کا بہت زیادہ احتمال رکھتی ہو مگر کذب کی طرف بھی کسی قدر نادانوں کا وہم جا سکتا ہوں“۔یعنی اگر عقلی طور پر دیکھیں تو سچائی اس میں نظر آتی ہو، آسکتی ہوں، مگر اس میں ایسے لوگ ہیں جو پوری طرح سوچتے نہیں اور اس کو جھوٹ کی طرف بھی لے جاسکتے ہوں۔ایسی بات ہو جو بالکل واضح نہ ہو۔