خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 52 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 52

خطبات مسرور جلد ششم 52 52 خطبه جمعه فرموده یکم فروری 2008 فرمایا: ” تاہم صدق کی شق کو اختیار کر کے اور نبی کو صادق قرار دے کر اپنی نیک ظنی اور اپنی فراست دقیقہ اور اپنے ادب اور اپنے ایمان کا اجر پالیویں۔یہی لب لباب قرآن کریم کی تعلیم کا ہے جو ہم نے بیان کر دیا ہے۔لیکن حکماء اور فلا سفر اس پہلو پر چلے ہی نہیں اور وہ ہمیشہ ایمان سے لا پروار ہے اور ایسے علوم کو ڈھونڈتے رہے جس کافی الفور قطعی اور یقینی ہونا ان پر کھل جائے۔مگر یادر ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایمان بالغیب کا حکم فرما کر مومنوں کو یقینی معرفت سے محروم رکھنا نہیں چاہا بلکہ یقینی معرفت کے حاصل کرنے کے لئے ایمان ایک زینہ ہے جس زمینہ پر چڑھنے کے بغیر چی معرفت کو طلب کرنا ایک سخت غلطی ہے لیکن اس زمینہ پر چڑھنے والے معارف صافیہ اور مشاہدات شافیہ کا ضرور چہرہ دیکھ لیتے ہیں۔ان کو صاف کھلے معارف بھی نظر آ جاتے ہیں جن پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کو بڑے تسلی دینے والے مشاہدات بھی نظر آتے ہیں۔”جب ایک ایماندار بحیثیت ایک صادق مومن کے احکام اور اخبار الہی کومحض اس جہت سے قبول کر لیتا ہے کہ وہ اخبار اور احکام ایک مخبر صادق کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے اس کو عطا فرمائے ہیں تو عرفان کا انعام پانے کے لئے مستحق ٹھہر جاتا ہے۔یعنی ایک سچا مومن، اللہ تعالیٰ جو احکامات دیتا ہے یا ان کو نبی کی طرف سے جو احکامات ملتے ہیں یا جو اللہ تعالیٰ ان کو خبریں دیتا ہے، ان کو صرف اس لئے قبول کرتا ہے کہ یہ ایک سچے خبر دینے والے نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اطلاع پا کر خبریں دی ہیں۔تو پھر اس کو اس کا عرفان بھی حاصل ہوتا ہے۔فرمایا کہ: اسی لئے خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے یہی قانون ٹھہرا رکھا ہے کہ پہلے وہ امور غیبیہ پر ایمان لا کر فرمانبرداروں میں داخل ہوں اور پھر عرفان کا مرتبہ عطا کر کے سب عقدے ان کے کھولے جائیں۔تو پہلے فرمانبرداری ضروری ہے۔سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کرناضروری ہے۔اس کے بعد پھر اس کو عرفان بھی حاصل ہو جائے گا،اس کی حکمتیں بھی معلوم ہو جائیں گی۔لیکن افسوس کہ جلد باز انسان ان راہوں کو اختیار نہیں کرتا۔خدا تعالیٰ کا قرآن کریم میں یہ وعدہ ہے کہ جو شخص ایمانی طور پر نبی کریم ﷺ کی دعوت کو مان لیوے تو وہ اگر مجاہدات کے ذریعہ سے ان کی حقیقت دریافت کرنا چاہے وہ اس پر بذریعہ کشف اور الہام کے کھولے جائیں گے“۔پہلے ایمان لانا ضروری ہے۔پھر مجاہدات کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اطلاع دے گا اور اس کے ایمان کو عرفان کے درجہ تک پہنچایا جائے گا“۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر 5 صفحہ 251 تا253 حاشیہ) پس یہ ہے وہ طریق جو ایمان میں کامل بننے والوں کے لئے ضروری ہے۔پھر ان دو آیات میں یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور اللہ تعالیٰ کی قبولیت دعا کے اعلان کے الفاظ میں ایک اور فرق بھی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کے آخر میں عرض کی اإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيمِ اور الله تعالیٰ جب جواب دیتا ہے تو فرماتا ہے وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُون اس فرق کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ حضرت ابراہیم نے عزیز وحکیم صفات کے واسطے سے دعا کی کہ جو کچھ میں مانگ رہا ہوں وہ اپنی سوچ کے مطابق مانگ رہا ہوں لیکن جس زمانے میں یہ نبی مبعوث ہونا ہے اور پھر تا قیامت جس کی آیات اور تعلیم نے تزکیہ بھی کرنا ہے اور حکمت بھی سکھانی ہے اس زمانے کی ضرورتوں کو تو بہتر جانتا ہے اس لئے اُس وقت اے اللہ تو اپنی صفت عزیز اور حکیم کے ساتھ اس زمانے کی ضروریات کو اس نبی کے ذریعہ پورا فرمانا۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 2 صفحه 280 مطبوعه ربوہ ) پس اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرما کر اس آیت میں کہ رسول یہ یہ کام کرتا ہے آخر پر فرمایا وَ يُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُون یعنی یہ رسول تمہیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے۔پس اس عظیم نبی پر وہ آیات اور