خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 44
خطبات مسرور جلد ششم 44 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 2008 پھر مسافروں کے لئے ایسے مسافر جو بعض دفعہ رقم کی کمی کی وجہ سے راستوں میں پھنس گئے ہوتے ہیں یا پھر ایسے لوگ جو علم کی تلاش میں نکلنے والے ہیں ان کو اگر خرچ کی کمی ہو تو ان کے لئے یہ رقم خرچ ہو سکتی ہے۔تو یہ جو سارے احکامات ہیں ، یہ معاشرے کو پاک کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر اتری ہوئی کتاب کے ذریعہ سے ہم تک پہنچائے ہیں۔اگر اسلامی حکومتیں نیک نیتی سے ان باتوں پر عمل شروع کر دیں تو پھر اسلام اور مسلمانوں کا ایک ایسا تصور دنیا کے سامنے ابھرے گا جس کا کوئی نظام مقابلہ نہیں کر سکتا اور ہر قسم کے اعتراضات جو اسلام پر کئے جاتے ہیں خود بخود مٹتے چلے جائیں گے۔کیونکہ نہ کسی مذہب کی تعلیم اس کے مقابلے پر ہے، نہ کوئی معاشی نظام اس کے مقابلے پر ہے اور اسلام کا معاشی نظام کیونکہ سود کے بغیر ہے اور پاک دل ہو کر حقوق العباد ادا کرنے کے لئے ہے اس لئے غیر ضروری بوجھ بھی کسی پر نہیں پڑتا۔جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے محد و دطور پر اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔لیکن وسائل اتنے محدود ہیں کہ باوجود خواہش کے اس پر عمل نہیں ہو سکتا لیکن اگر حقیقی رنگ میں حکومتیں ہیں جو حکومتی نظام چلا رہی ہیں ان کے پاس وسائل بھی ہوتے ہیں وہ یہ بہتر طور پر کرسکتی ہیں۔پاکستان کے وسائل کو بھی اگر صیح طور پر استعمال کیا جائے تو اتنے وسائل ہیں کہ پاکستان میں غربت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔تو قرآن کریم کی تعلیم ایک ایسی خوبصورت تعلیم ہے جو ہر پہلو سے معاشرے کا تزکیہ کرتی ہے اور اسلامی حکومت میں رہنے والے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی تزکیے پر مبنی اس معاشی نظام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔پھر تز کیسے سے ظاہری صفائی بھی مراد ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقره: 223) یعنی اللہ تعالیٰ ان سے جو بار بار اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور جو ظاہری اور باطنی صفائی کرنے والے ہیں ان سے محبت کرتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے حضور تو بہ کرتے ہوئے جھکنا، غلطیوں پر نادم ہو کر استغفار کرنا دل کی صفائی کا باعث ہے۔دوسرے اللہ تعالیٰ ظاہری صفائی پسند فرماتا ہے اور نظافت اور صفائی کے بارے میں خاص طور پر ہدایت ہے۔دانتوں کی صفائی ہے، کپڑوں کی صفائی ہے جسم کی صفائی ہے، ماحول کی صفائی ہے اور عبادت کرنے کے لئے بھی ظاہری صفائی یعنی وضو کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔لیکن ہمارے ہاں مسلمانوں میں صفائی کا معیار اتنا نہیں جتنی اس بارے میں نصیحت کی گئی ہے۔آنحضرت میں اللہ نے جمعہ والے دن خاص طور پر نہانے اور خوشبو لگانے کا حکم دیا ہے۔( بخاری کتاب الجمعۃ باب الطيب للجمعۃ حدیث نمبر 880) مسجد میں آتے ہوئے ایسی چیزیں کھانے سے منع کیا ہے جن سے بو آتی ہو۔(مسلم کتاب المساجد مواضع الصلاة باب بھی من اكل ثو ما۔۔۔حدیث 1141) پھر ماحول کی صفائی ہے۔ہم نے عموماً ہمارے بعض لوگوں نے جو خاص طور پر غریب ممالک ہیں یہ تصور کر لیا ہے، پاکستان بھی ان میں شامل ہے کہ اگر غربت ہو تو گندگی بھی ضروری ہے حالانکہ اپنے ماحول کی صفائی سے غربت یا امارت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اَلطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَان ، حضرت ابو موسیٰ اشعری سے یہ روایت ہے آپ بیان