خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 45
خطبات مسرور جلد ششم 45 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 2008 ایک حصہ ہے۔کرتے ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اَلطُّهُورُ شَطْرُ الاِیمان کے طہارت، پاکیزگی اور صاف ستھرا رہنا یہ ایمان کا ( صحیح مسلم۔کتاب الطھارۃ۔باب فضل الوضوء حدیث 422) حضرت عطا بن بیسار بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ایک دن مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص پراگندہ بال اور بکھری داڑھی والا آیا حضور ﷺ نے اسے اشارے سے سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ سر کے اور داڑھی کے بال درست کرو اور جب وہ سر کے بال ٹھیک ٹھاک کر کے آیا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کیا یہ بھلی شکل بہتر ہے یا یہ کہ انسان کے بال اس طرح بکھرے اور پراگندہ ہوں کہ شیطان اور بھوت لگے۔(موطا امام مالک۔کتاب الشعر۔باب اصلاح الشعر حدیث 1770) آجکل ہمارے ہاں بعضوں کو خیال ہے کہ جو اللہ والے ہوتے ہیں ان کے لباس بھی گندے ہونے چاہئیں اور حلیہ بھی بگڑا ہوا ہونا چاہئے اور ان میں سے بو بھی آنی چاہئے تو یہ حدیث اس کی نفی کرتی ہے۔آجکل یہاں بھی میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ میں سیر سے آتا ہوں، بچے سکول جاتے ہیں، یہاں کے مقامی بچے تو ہیں ہی، ہمارے بعض پاکستانی بچے بھی ہیں اور بعض احمدی بھی کہ بال بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔لگتا ہے کہ بس سو کے اٹھے ہیں اور اسی طرح اٹھ کر سکول جانا شروع ہو گئے ہیں۔تو ماں باپ کو چاہئے کہ بچوں کی تربیت بھی ابھی سے اس عمر میں کریں کہ صبح اٹھیں، تیار ہوں، بال سنواریں، منہ ہاتھ دھوئیں اور وقت پہ اٹھیں تا کہ وقت پہ تیار ہو کر سکول جاسکیں اور خود بھی ماں باپ اپنی صفائی کا خیال رکھیں۔جن گرم ممالک میں پسینہ زیادہ آتا ہے وہاں خاص طور پر جسمانی صفائی کا خیال رکھنا چاہئے۔پانی اگر میسر ہے، بعض جگہ تو پانی بھی میسر نہیں ہوتا لیکن بہرحال ایک دفعہ ضرور نہانے کی کوشش کرنی چاہئے۔تو یہ باتیں ہیں جن کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ صفائی ہے، یہ ستھرائی ہے، یہ ایمان کا حصہ ہے۔پھر دل کی صفائی ہے، جس سے تزکیہ ہوتا ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ صحابہ نے کس طرح اپنا تزکیہ کیا اور برائیوں کا خاتمہ کیا۔میں یہاں چند ایک برائیوں کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں جس نے باوجود اس کے کہ دلوں میں نیکی موجود ہے لیکن پھر بھی بعض احمدیوں کے دلوں میں بھی یہ برائیاں پیدا کر دی ہیں۔اور نیکی اور برائی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے ، یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔اگر برائیاں بڑھتی رہیں یا قائم رہیں تو نیکیوں کو نکال دیتی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے دلوں میں نیکیوں کے قدم مضبوط ہوں اور برائیوں کو باہر نکالیں تا کہ تزکیہ قلب حقیقی رنگ میں ہو۔ان برائیوں میں سے ایک حسد ہے۔ایک جھوٹ ہے۔پھر قرض لینے کی عادت ہے اور قرض نہ واپس کرنے کی عادت ہے۔تو آجکل کے معاشرے میں ان باتوں نے بہت سے مسائل پیدا کئے ہوئے ہیں، اس لئے ان کا بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔حسد سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دعا سکھاتی ہے کہ یہ دعا کرو : وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ( الفلق : 6) که حاسد کے حسد سے اللہ تعالیٰ بچائے۔جب ایک مومن خود بچنے کی دعا کرے گا تو پھر ایک پاک دل مومن یہ بھی کوشش کرے گا کہ دوسرے سے حسد کرنے سے بھی بچے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح بھسم کر دیتا ہے جس طرح آگ ایندھن اور گھاس کو بھسم کر دیتی ہے۔(ابو داؤد کتاب الادب باب في الحسد حدیث نمبر 4903 و سنن ابن ماجہ ابواب الزهد باب الحسد حدیث نمبر 4210)