خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 43

43 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 2008 خطبات مسرور جلد ششم اس پاک نبی ﷺ کے ذریعہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ نے اتاری، جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور جس سے تزکیہ کا صحیح مفہوم سمجھ آتا ہے اور پھر صرف صدقہ اور چندے کا حکم ہی نہیں ہے۔بلکہ یہ بھی بتادیا کہ کن کن جگہوں پر وہ خرچ ہو گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبة: 60 ) که صدقات تو محض محتاجوں اور مسکینوں اور ان صدقات کا انتظام کرنے والوں اور جن کی تالیف قلب کی جا رہی ہے اور گردنوں کو آزاد کرانے اور چنی میں مبتلا لوگوں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں عمومی خرچ کرنے اور مسافروں کے لئے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے اور اللہ دائمی علم رکھنے والا ، بہت حکمت والا ہے۔حقوق ادا کرنے کے لئے اسلامی نظام حکومت کی اب یہ ایک ذمہ داری بتائی گئی ہے۔پہلے تو یہ بتایا کہ فقراء پر خرچ کرو یعنی جو بہت زیادہ غربت زدہ ہیں ، بیمار ہیں ، علاج معالجے کی سہولت مہیا نہیں کر سکتے۔پھر مساکین ہیں جو کام کی خواہش رکھتے ہوئے بھی سرمائے کی کمی کی وجہ سے کام نہیں کر سکتے۔ان کی اگر مالی مدد کی جائے تو بہت سی برائیوں سے بچ جائیں گے اور پاک معاشرے کا حصہ بن جائیں گے۔پھر یہ زکوۃ صدقات کا روپیہ ان پر خرچ کرنے کی اجازت ہے جو حکومتی کارندے یا مال جمع کرنے کے لئے متعین کئے گئے ہیں یا کوئی اور حکومتی کام کر رہے ہیں۔پھر تالیف قلب ہے اس کے لئے خرچ کیا جائے۔پہلے زمانے میں یہ خرچ ان لوگوں پر بھی ہوتا تھا جو اسلام قبول کرنا چاہتے تھے لیکن بعض پابندیوں کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کر سکتے تھے۔معاشرے کی پابندیوں میں جکڑے ہوتے تھے۔یا پھر بعض نیچے مسلمان ہونے والے جن کو اپنے معاشرے سے علیحدہ ہونے کی وجہ سے مالی تکلیفوں کا سامنا تھا تو ان کے لئے یہ رقم خرچ کی جاسکتی تھی اور کی جاتی تھی لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اسلام جو ہے وہ رقم دے کر یا پیسے دے کر مسلمان بنواتا ہے بلکہ جو مجبور ہیں خود اس بات کا مطالبہ کریں کہ ہماری بعض مجبوریاں ہیں۔ہمارے بعض مالی بندھن ہیں اگر ہمیں اس سے آزاد کر دیا جائے تو ہم اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں یا بعض پابندیاں ہیں ان سے آزاد ہونا چاہتے ہیں تو ان کے لئے خرچ کرنے کی اجازت ہے۔آجکل تبلیغ کے ذرائع ان لوگوں کو مہیا کرنا بھی اس میں شامل ہے۔تالیف قلب میں یہ ساری چیزیں آ جاتی ہیں۔پھر غلاموں کی آزادی ہے۔اُس زمانے میں تو غلام رکھنے کا رواج تھا، آج تو یہ نہیں ہے۔لیکن بدقسمتی سے بعض امراء نے بعض جاگیر داروں نے غریبوں کو قرض دے کر اپنا غلام بنایا ہوتا ہے اور نہ وہ قرض اترتا ہے اور نہ ہی یہ نوکری کی صورت میں غلامی ختم ہوتی ہے۔پاکستان میں بھی اس کا بہت رواج ہے۔خاص طور پر بھٹے والوں میں یا زمینداروں میں۔بعض جگہ پر تو اب اس کے خلاف کچھ آواز میں اٹھنی شروع ہوئی ہیں۔لیکن یہ حکومت کا کام ہے کہ ان کو آزاد کرائے۔جو مالک ہیں ان کو بھی محروم نہ کرے۔جو مزدور ہے اس کو بھی محروم نہ کرے تا کہ کسی بھی قسم کا ایسا رد عمل نہ ہو جو بجائے پاکیزگی پیدا کرنے کے فساد کا موجب بن رہا ہو۔پھر جن کو کاروبار میں نقصان ہوئے ہوں ان پر خرچ ہو سکتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کی راہ میں عمومی خرچ پر یہ رقم خرچ ہو سکتی ہے یعنی ہر اچھے اور نیک کام پر جس کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس پر یہ رقم خرچ ہوسکتی ہے۔