خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 510 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 510

خطبات مسرور جلد ششم 510 (51) خطبہ جمعہ فرمودہ 19 دسمبر 2008 فرمودہ مورخہ 19 دسمبر 2008ء بمطابق 197 فتح 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دنیا میں ہزاروں کروڑوں انسان ایسے ہیں جو روزانہ مختلف بیماریوں اور وباؤں کا شکار ہوتے ہیں۔کسی بڑے ہسپتال میں انسان چلا جائے تو لگتا ہے کہ دنیا میں سوائے مریضوں کے کوئی ہے ہی نہیں۔مغربی اور ترقیاتی ممالک میں تو علاج کی بہت سہولتیں ہیں جن سے عام آدمی فائدہ اٹھاتا ہے لیکن تیسری دنیا کے اور غریب ممالک میں اگر جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ لاکھوں مریض ایسے ہیں جو اپنی غربت یا وسائل نہ ہونے کی وجہ سے علاج کروا ہی نہیں سکتے۔اور بیماری کی حالت میں انتہائی بے چارگی میں پڑے ہوتے ہیں۔بڑی کسمپرسی کی حالت ہوتی ہے۔پھر ان ملکوں کے ہسپتالوں کی حالت بھی ایسی ہے کہ اگر کوئی ہسپتال میں چلا بھی جائے تو پوری سہولتیں میسر نہیں۔اگر کچھ سہولتیں ہیں تو ڈاکٹر میسر نہیں ہے اور پھر اس وجہ سے علاج نہیں ہو سکتا۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں لاکھوں لوگ بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا جس کو علاج کی سہولتیں مل جاتی ہیں ان کے لئے شفا اور صحت مقدر ہوتی ہے وہ شفایاب بھی ہو جاتے ہیں۔اور بہت سی تعداد ایسی بھی ہے جو اپنی اجل مسمی کو پہنچ چکے ہوتے ہیں اور کوئی علاج بھی ان پر کارگر نہیں ہوتا۔بہت سے ایسے ہیں جو اپنی غلطیوں کی وجہ سے بعض بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور بظاہر ان کی عمریں بھی چھوٹی ہوتی ہیں اور صحت بھی صحیح اور ٹھیک نظر آ رہی ہوتی ہے لیکن ذراسی بیماری سے وہ باوجود علاج کے شفا نہیں پاتے یا کوئی ایسی بیماری ان کو لگ جاتی ہے جو ایک دم خطرناک ہو جاتی ہے۔ہر ممکن طریقہ اپنی زندگی کو بچانے کا کرتے ہیں لیکن ان کی اجل مسمی سے پہلے ہی ان کی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔دنیا میں بے شمار ایسے بھی لوگ ہیں جیسا کہ میں نے بتایا کہ بعض ممالک میں علاج کی سہولتیں نہیں ہیں اور جو علاج کی سہولت نہیں رکھتے یا جس جگہ پہ علاج نہیں ہو سکتا وہاں ان کو سہولت ہی میسر نہیں یا ان کو علاج کروانے کی طاقت نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ بعض کو بڑی خطرناک بیماریوں سے شفا دے دیتا ہے اور پھر وہ لمبی زندگی گزارتے ہیں یا ایسے بھی ہیں جو ہر قسم کے علاج کے نا کام ہو جانے کے بعد اپنے کسی بزرگ کی دعا سے یا کسی دوسرے کی دعا سے یا صرف اپنی دعا سے صحت یاب ہو جاتے ہیں اور یہ ساری باتیں ایک سعید فطرت انسان کو اس بات